توبہ کاوجود
توبہ کاوجود آپ غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ گناہ کی ابتداء آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے ۔ آپ قرآن و حدیث
توبہ کاوجود آپ غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ گناہ کی ابتداء آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہے ۔ آپ قرآن و حدیث
عذاب الہٰی قوم نوح گناہوں میں مبتلا ہو گئی ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی نا فرمانی کرنے لگی تو اسکو اللہ تبارک و تعالیٰ
توبہ کا دروازہ برادران اسلام توبہ کا دروازہ ابھی تک کھلا ہے ، انسان کو ناامید نہیں ہونا چاہیئے توبہ کا دروازہ اس وقت بند
اللہ تعالیٰ کا احسان یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ بندہ گناہ کرتا ہے کسی گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے
اعضاء کی گواہی برادران اسلام ! آپ یادرکھیئے ایک دن خدا کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا ۔ ایک دن موت ضروری ہے ، قیامت
دنیا دارُالفنا ہے یاد رکھیئے دنیا فنا ہونے والی ہے ، دنیا کی ہر شئے فانی ہے ، دنیا میں کوئی چیز باقی رہنے والی
تــوبـــہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَہُ لِلْمُتَّقِیْن وَالْصّلوٰۃُ وَالسَّلامُ عِلیٰ سَیِّدالْمُرْسَلِیْن امَّابَعْد فَقَدْقَالَ اللّٰہُ فِیْ الْقُرانِ الْمَجِیْد اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشیطانِ الرّجِیْمِ یَااَیُّھاالَّذِیْنَ آمنُوا توبوا اِلٰی
ایک عورت کا عشق رسول روایت میں آیا ہے کہ ایک انصاری عورت کا بھائی باپ اور شوہر ایک جنگ میں شہید ہوگئے یہ سن
عشق رسول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا ہر وقت سرکار
صدیق اکبر اور عشق رسول اس واقعہ سے آپ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عشق رسول کا پتہ لگائیے ۔ ایک مرتبہ کفار
محبت رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا حبیبی یارسول اللہ
حدیث شریف سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں {لَا یُوْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبُّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ ووَلَدِہ النَّاسِ