محبت رسول
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا حبیبی یارسول اللہ قیامت کب آئے گی سرکار دو عالم صلی اللہ و سلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نے قیامت کی تیاری کرلی ہے تو اس شخص نے کہا یا رسول اللہ میرے پاس روزوں کا انبار نہیں ہے ، یا رسول اللہ میرے پاس نمازوں کا ذخیرہ نہیں ہے یا رسول اللہ میرے پاس نیکیوں کا ڈھیر نہیں ہے ۔ یارسول اللہ میں نے زیادہ خیرات نہیں کی ہے یا رسول اللہ آخرت کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے مگر میرے دل میں اللہ اوراس کے رسول کی محبت کا چراغ روشن ہے ، میرے دل میں اللہ اوراس کے رسول کی محبت ہر چیز سے زیادہ ہے ۔یہ سن کر سرکار دو عالم صلی اللہ و سلم کے لب کو جنبش ہوئی اور یہ ارشاد فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو تم میرے ساتھ جنت میں رہو گے ۔
برادران ملت اسلامیہ آپ غور کیجئے تو پتہ چلے کہ اعمال کا دارمدار ایمان پر ہے اور محبت رسول ایمان کی جان ہے اس لئے اس صحابی نے کہہ دیا یا رسول اللہ میرے پاس نیک اعمال زیادہ نہیں ہیں لیکن آپ کی محبت ضرور ہے اسی لئے سرکار دو عالم صلی اللہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا تو تم میرے ساتھ جنت میں رہوگے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ محبت رسول تمام نیک اعمال سے بڑھ کر ہے اور محبت رسول کا بدلہ جنت ہے اسی لئے ڈاکٹراقبال کہتے ہیں
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
Post Views: 26