ایک عورت کا عشق رسول

ایک عورت کا عشق رسول
روایت میں آیا ہے کہ ایک انصاری عورت کا بھائی باپ اور شوہر ایک جنگ میں شہید ہوگئے یہ سن کر وہ عورت روتے ہوئے گھر سے نکلی اور لوگوں سے پوچھنے لگی سرکار مدینہ کہاں ہیں، محمد عربی کیسے ہیں، میرے آقا خیریت سے تو ہیں ، سرکار دو عالم زخمی تو نہیں ہوئے ، میرے آقا کو کوئی تکلیف تو نہیں پہنچی ؟ صحابہ کرام نے اس عورت کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے ۔ آپ کو دیکھ کر وہ عورت خوش ہوگئی ، میرے آقا سلامت ہیں اب مجھے کوئی غم نہیں میرا تمام کنبہ آپ پر قربان ہوگیا اس سے زیادہ خوش نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے۔
برادران اسلام آپ یاد رکھیں نماز روزہ بلکہ ہر نیک اعمال سے بڑھ کر محبت رسول ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ جو بہت متقی ہے ، نماز کا پابند ہے ،روزہ دار ہے ، تلاوت کلام پاک کرنے والا ہے لیکن رسول کی محبت نہیں ہے ، اس کے سینے میں عداوت رسول ہے ، گستاخ رسول ہے تو ہرگز ہرگز مسلمان نہیں بلکہ اسلام سے خارج ہے ، اس کی نماز ،نماز نہیں ، اس کی عبادت عبادت نہیں اس کا انجام دنیا و آخرت میںبراہی برا ہے۔
برادران اسلام آپ تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا صحابہ کرام سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنی جان چھڑکتے تھے۔ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ کر مجھ کو اور کوئی محبوب نہیں ۔
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہے خدا کی قسم رسول خدا ہمیں اپنے ماںباپ ، اپنی اولاد اور اپنے مال سے زیادہ محبوب ہیں ۔ حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں کہ تیز دھوپ ہو ، شدت کی گرمی پڑ رہی ہو ، پیاس سے حلق خشک ہوگیا ہو ایسی حالت میں بھی مجھے ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ برادران اسلام مومن کامل اسی وقت ہوسکتے ہیں جب ہر چیز سے زیادہ محبت رسول سے ہو اللہ تبارک تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سبھوں کو محبت رسول عطا فرمائے ۔
ٓآمین
وَ مَاعَلَیْنَا اِلَّا البَلٰغ