معراج کا واقعہ
معراج کا واقعہ معراج کا واقعہ اعلان بنوت کے بعد ہجرت سے پہلے رجب کی ۲۷؍ تاریخ کو پیش آیا۔ اس میں تمام علماء کا
معراج کا واقعہ معراج کا واقعہ اعلان بنوت کے بعد ہجرت سے پہلے رجب کی ۲۷؍ تاریخ کو پیش آیا۔ اس میں تمام علماء کا
سورج کا ٹھہر جانا جب کفار قریش نے واقعہ معراج کے بعد آپ سے دریافت کیا کہ ملک شام سے قافلہ کب آرہا ہے۔ آپ
سورج کا پلٹنا حضرت اسما بنت عمیس کہتی ہیں کہ خیبر کے قریب مقام صہبا پر حضرت علی کی گود میں آپ سر رکھ کر
معجزات چاندکے دو ٹکڑے ہونا کفار مکہ کا ایک گروہ جس میںابوجہل، ولید بن مغیرہ، عاص بن ہشام، شامل تھے آپ کے پاس آیا اور
حضرت ابو محذورہ حضرت ابو محذورہ کا شمار بھی آپ کے مؤذنوں میں ہوتا ہے۔ آپ نےان کو مکہ مکرمہ میں مسجد حرام میں اذان
حضرت سعد بن عائذ حضرت سعد بن عائد بھی بارگاہ رسالت کے مؤذن تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ان پر دست شفقت پھیر کر برکت
حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم، اصحاب صفہ میں شامل ہیں ۔آپ نابینا صحابی تھے۔ یہ بھی آپ کےمؤذنوں میں شمار
مؤذن دربار نبوت میں اذان دینے والے خوش نصیب چار ہیں۔(۱) حضرت بلال بن رباح(۲) حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم(۳) حضرت سعد بن عائذ، (۴)حضرت
حضرت کعب بن مالک حضرت کعب بن مالک بھی دربار نبوت کے شاعر تھے۔جنگ تبوک میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے معتوب ہوئے۔ ان
حضرت عبداللہ بن رواحہ حضرت عبداللہ بن رواحہ، یہ بھی دربار نبوت کے شاعر تھے۔ ان کے فضائل. احادیث میں بھی ذکر ہیں آپ نے
دربار نبوت کے شعراء بہت سارے صحابہ کرام آپ کی مدح و نعت اور قصائد کہہ کر سرفراز ہوئے۔مگر تین بہت مشہور ہیں۔ حضرت حسان
محافظ کفار عرب آپ کے جانی دشمن تھے ۔آپ کے جاں نثارصحابہ، باری باری راتوں کو مختلف خواب گاہوں میں پہرہ دیا کرتے تھے۔ جب