معراج کا واقعہ
معراج کا واقعہ اعلان بنوت کے بعد ہجرت سے پہلے رجب کی ۲۷؍ تاریخ کو پیش آیا۔ اس میں تمام علماء کا اتفاق ہے کہ معراج حالت بیداری میں جسم و روح کے ساتھ ہوئی۔ جو یہ کہے کہ معراج فقط خواب میں ہوئی وہ گمراہ اور فاسق ہے۔ آپ نے معراج کی رات اللہ عزوجل کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ معراج کی رات حضرت جبرئیل تشریف لائے۔سینہ مبارک کو چاک کرکے زمزم سے دھویا،براق پر سوار ہو کر بیت المقدس تشریف لے گئے۔ تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔ ساتوں آسمانوں میں انبیاء کرام سے ملاقات ہوئی ۔جنت کی سیر کرائی گئی ۔پھر آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہونچے۔جبرئیل وہیں رک گئے وہاں سے آپ اکیلے سفر شروع کئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے قرب خاص میں بلایا، راز و نیاز کی باتیں ہوئیں۔آپ کو بطور نعمت ۵؍ وقت کی نمازیں، اُمت کی بخشش کا وعدہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیتیں دی گئیں۔ معراج میں آپ نے کئی سواریوں پر سواری کی۔ براق پر، نور کی سیڑھیوں پر، فرشتوں کےبازئوں پر، رفرف پر۔
آسمانی سیر کے بعد بیت المقدس تشریف لائے پھر وہاں سے براق پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ تشریف لائے۔