عمرۃ القضا
عمرۃ القضا فتح خیبر کے بعد آپ عمرۃ القضا کے لئے ذی قعدہ ۷ھ میں مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ کیوں کہ صلح حدیبیہ کے
عمرۃ القضا فتح خیبر کے بعد آپ عمرۃ القضا کے لئے ذی قعدہ ۷ھ میں مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ کیوں کہ صلح حدیبیہ کے
ساتویں ہجری کےحالات وواقعات فتح خیبر ماہ محرم ۷ ھ میں خیبر کا واقعہ پیش آیا۔ مدینہ منورہ سے ایک سو ستر کلو میٹر کی
آپ کی بارگاہ میں تحفہ مصر کے بادشاہ مقوقس کے پاس جب آپ کا خط پہونچا ،اخلاق کےساتھ قاصد سے ملا ،ادب و احترام کے
باادب نجاشی بادشاہ حبشہ نے کوئی بے ادبی نہیں کی لیکن اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں اس میں اختلاف ہے ۔اس سے پہلے
حکومت کےٹکڑے ٹکڑے حضرت عبداللہ بن حذافہ نے خط پرویز خسرو کو پہونچایا تو اس نے کہا کہ محمد نے میرے نام سے پہلے اپنا
اسلام کی دولت سے محروم جب روم کے بادشاہ ہرقل قیصر کے پاس آپ کا خط پہونچا اس نے کوئی گستاخی نہیں کی، وہ توریت
بادشاہوں کے نام خطوط صلح حدیبیہ کے بعد حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمر و بن عاص خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر مسلمان
بیعت رضوان آپ نے فرمایا عثمان کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔ آپ نے تمام صحابہ سے وفاداری کا عہد ایک درخت کے نیچے
چھٹی ہجری کےحالات وواقعات صلح حدیبیہ اسی سال ۶ھ میں صلح حدیبیہ، کا واقعہ پیش آیا۔ قرآن نے اسے فتح مبین کہا ہے۔ ذوالقعدہ ۶ھ
سلمان فارسی کی رائے اسی سال غزوہ خندق جس کو غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں واقع ہوا۔ اس جنگ میں کفار نے تمام قبائل کو
پاکدامنی پر آیت کا نزول ۵ھ میں اسی غزوہ مصطلق سے واپسی پر، ام المومنین حضرت عائشہ پر تہمت لگی،یہاں تک کہ آپ کی برأت
پانچوی ہجری کےحالات وواقعات جنگ احد میں مسلمانوں کے نقصان کے بعد کفار کا حوصلہ اتنا بلند ہواکہ مدینہ پر حملہ کرنے کا سوچنے لگا۔