بیعت رضوان
آپ نے فرمایا عثمان کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔ آپ نے تمام صحابہ سے وفاداری کا عہد ایک درخت کے نیچے لیا۔ آپ کے ہاتھ پر سبھوں نے بیعت کر لی، اسی کو بیعۃ الرضوان کہتے ہیں اسی کا ذکر سورہ فتح میں موجود ہے۔
کفار مکہ اور مسلمان کے درمیان صلح نامہ تیار ہوا ،جس میں یہ شرطیں تھیں کہ فریقین کے درمیان ۱۰؍ سال تک لڑائی نہ ہوگی۔ مسلمان بغیر عمرہ کئے واپس جائیں گے۔ آئندہ سال صرف ۳؍ دن کے لئے عمرہ کے لئے آئیں گے۔ آپ نے صلح نامہ پر دستخط کی اور قربانی کرکے بال ترشوالئے، آپ کو دیکھتے ہوئے صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا اور مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ بغیر لڑے اس صلح کو قرآن نے فتح مبین قرار دیا۔
Post Views: 23