عمرۃ القضا

عمرۃ القضا
فتح خیبر کے بعد آپ عمرۃ القضا کے لئے ذی قعدہ ۷ھ؁ میں مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ کیوں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پرآپ بغیر عمرہ کئے واپس ہوگئے تھے آپ نے اعلان فرمایا جو لوگ گزشتہ سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب میرے ساتھ عمرہ کے لئے چلیں ۔جنگ خیبر میں شہید ہونے والوں کے علاوہ سبھوں نےیہ سعادت حاصل کی ۔
جب آپ حرم کعبہ میں داخل ہوئے تو مشرکوں نے کہا محمد آئے ہیں اوران کے ساتھ ایسے لوگ ہیں جنہیں یثرب کے بخار نے کمزور کر دیا ہے تو آپ نے اضطباع کیا۔ کفارمکہ مارے جلن کے وہاں سے پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ آپ نے اضطباع کیا۔ اور شروع کے تین پھیروں میں شانوں کو ہلا ہلا کر خوب اکڑے ہوئے چل کر طواف کیا، اسی کورمل کہتے ہیں۔ آج بھی یہ سنت باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔