شوہر حق مہر کی معافی قبول نہ کرے تو کیا حکم ہے؟
اپنی رضا مندی و خوشی سے اپنا حق مہر معاف کردے تو وہ معاف ہوجاتا ہے بشرطیکہ شوہر نے انکار نہ کیاہو، لہٰذا پوچھی گئی
اپنی رضا مندی و خوشی سے اپنا حق مہر معاف کردے تو وہ معاف ہوجاتا ہے بشرطیکہ شوہر نے انکار نہ کیاہو، لہٰذا پوچھی گئی
اسلام کا ہر حکم اپنے اندر بے شمار حکمتیں، مصلحتیں اور فوائد سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ جن میں سے بعض انسانی عقل پر واضح ہو
مہر کی رقم دینے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ مہر تین قسم کا ہوتا ہے: (1) معجل، (2) مؤجل، (3) غیر مؤجل (مؤخر، مہر
عام طور پرہمارے یہاں لڑکا لڑکی خود ایجاب و قبول نہیں کرتے، بلکہ نکاح خواں یہ کام سرانجام دیتے ہیں، اور عموما مجلس نکا ح
(۱) دیگر خطبات کی طرح نکاح کا خطبہ بھی کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے؛ کیونکہ قیام سے آواز دور تک پہنچتی ہے اور حاضرین
اگر کسی عورت کو شرعاً تین طلاقیں ہوجائیں، تو میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام، اور ایک دوسرے کے لئے اجنبی کی طرح ہوجاتے ہیں،
پوچھی گئی صورت کے مطابق نکاح درست ہوجائے گا جبکہ کوئی اور مانعِ نکاح بات نہ پائی جائے۔ تفصیل یہ ہے کہ: نکاح کے وکیل
صورت مسئولہ میں بغیر گواہوں کے کیا جانے والا نکاح فاسد ہے۔ جسے ختم کرنے کے لئے طلاق ضروری نہیں، البتہ متارکہ ضروری ہے۔ اس
اگر عورت زیادہ دودھ والی ہو اور خوف ہو کہ پستان چوسنے سے دودھ اس کے حلق میں چلا جائے گا تو ایسا کرنا، مکروہ
میت کا پوسٹ مارٹم کرنا ازروئے شرع جائز نہیں ہے ، اسلئے کہ یہ انسانی حرمت کے خلاف ہے ، شریعت انسان کی بے حرمتی
جب میت کی تدفین کر دی گئی تو دفن کرنے کے بعد بلاعذرِ شرعی قبر کشائی کرنا یا میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا حرام اور اَسرارِ الہیہ

استاذ کی عظمت از : قلم مفتی محمد ابراہیم آسی جامعہ قادریہ اشرفیہ ممبئی اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم