استاذ کی عظمت Ustaz Ki Azmat

استاذ کی عظمت
از : قلم مفتی محمد ابراہیم آسی جامعہ قادریہ اشرفیہ ممبئی
اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، اور ان کے بعد علماء اور اساتذہ کو علم کی امانت کا محافظ بنایا۔ استاد وہ عظیم شخصیت ہے جو جہالت کے اندھیروں میں علم کا چراغ روشن کرتی ہے، کردار کی تعمیر کرتی ہے، اخلاق سنوارتی ہے اور شاگرد کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔ اگر والدین انسان کو دنیا میں آنے کا ذریعہ بنتے ہیں تو استاد اسے علم، شعور، تہذیب اور کامیابی کی نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ استاد روحانی والد ہوتا ہے۔
اسلام نے استاد کو نہایت بلند مقام عطا فرمایا ہے۔ قرآن کریم کی پہلی وحی ہی علم کے بارے میں نازل ہوئی۔
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔یعنی اپنے اس رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا۔میں تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔یہ حدیث اس بات کی روشن دلیل ہے کہ تعلیم و تعلم اسلام کی بنیادوں میں سے ہے۔اور استاد انبیاء کے مشن کا وارث ہے۔
استاد صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور عمل سے بھی تعلیم دیتا ہے۔ان کے اندر اخلاق، دیانت اور ذمہ داری کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ہر طالب علم کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرنا۔طلبہ کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی تربیت کرنا۔انہیں معاشرے کا مفید اور باکردار فرد بنانا۔صبر، شفقت اور محبت کے ساتھ تعلیم دینا۔حقیقی استاد اپنے شاگردوں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے اور ان کی ناکامی پر فکر مند رہتا ہے۔استاد کی صفات ایک کامیاب استاد میں متعدد خوبیاں پائی جاتی ہیں۔مثلاًعلم و تحقیق کا شو ق تقویٰ اور اخلاص حسن اخلاق صبر و تحمل عدل و انصاف شفقت اور محبت بہترین اندازِ تدر یس ،وقت کی پابندی ذمہ داری کا احساس ،طلبہ کی حوصلہ افزائی ،یہ صفات استاد کو صرف معلم نہیں بلکہ بہترین مربی بھی بنا دیتی ہیں۔
شاگرد اپنی زندگی میں جو کچھ بنتا ہے، اس میں استاد کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، عالم، قاضی، وکیل، سائنس دان، شاعر، مصنف یا حکمران یہ سب کسی نہ کسی استاد کے شاگرد ہوتے ہیں۔استاد اپنے شاگرد کو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ سوچنے کا سلیقہ، مسائل حل کرنے کی صلاحیت، اخلاقی اقدار اور زندگی گزارنے کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ اسی لیے استاد کا احسان کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔اسلام نے استاد کے احترام پر بہت زور دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے۔جس شخص نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا، میں اس کا غلام ہوں۔لیکن اس کا مفہوم استاد کے احترام کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔استاد کا احترام درج ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے:ادب کے ساتھ گفتگو کرنا۔ان کی بات کو توجہ سے سننا۔ان کے سامنے بلند آواز سے بات نہ کرنا۔ان کی نصیحت پر عمل کرنا۔ان کے لیے دعا کرنا۔ان کے احسانات کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ان کی عزت و توقیر کو ہر حال میں برقرار رکھنا۔اسلامی تاریخ ایسے عظیم اساتذہ سے بھری پڑی ہے جنہوں نے پوری دنیا کو علم کی روشنی دی۔ امام ابو حنیفہ ،امام مالک، امام شافعی،امام بخاری، امام مسلم، امام غزالی،جیسے اکابر نے اپنے علم اور تدریس سے لاکھوں انسانوں کی زندگی بدل دی۔ آج بھی مدارس، جامعات اور تعلیمی ادارے انہیں عظیم اساتذہ کی علمی میراث کے امین ہیں۔
موجودہ دور میں استاد کی اہمیت آج کا دور سائنسی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور معلومات کے سیلاب کا دور ہے۔ ایسے حالات میں استاد کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب استاد صرف معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ طلبہ کی صحیح رہنمائی کرنے والا، اور اخلاقی اقدار کا محافظ بھی ہے۔