نکاح کے وکیل کا آگے وکیل بنانا کیسا؟

پوچھی گئی صورت کے مطابق نکاح درست ہوجائے گا جبکہ کوئی اور مانعِ نکاح بات نہ پائی جائے۔ تفصیل یہ ہے کہ: نکاح کے وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے سے نکاح پڑھوادے۔ ہاں! اگر عورت دوسرے شخص کو وکیل بنانے کی بھی اجازت دے دے تو اب وکیل دوسرے شخص مثلاً نکاح خواں کو بھی وکیل بناسکتا ہے۔

بہارِ شریعت میں ہے: نکاح کے وکیل کویہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے سے نکاح پڑھوادے۔ ہاں اگر عورت نے وکیل سے کہہ دیا کہ تو جو کچھ کرے منظورہے تو اب وکیل دوسرے کو وکیل کر سکتا ہے یعنی دوسرے سے پڑھوا سکتا ہے۔ (بہارِ شریعت، حصہ 7، صفحہ 60، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم