پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت

میت کا پوسٹ مارٹم کرنا ازروئے شرع جائز نہیں ہے ، اسلئے کہ یہ انسانی حرمت کے خلاف ہے ، شریعت انسان کی بے حرمتی کی قطعاً اجازت نہیں دیتی ہے ، لہذا پوسٹ مارٹم کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے ۔

قال رسول اللہ ﷺ کسر عظم المیت ککسرعظم الحي ۔ (ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب فی الحفار یجد العظم ہل ینتکب ذلک المکان ، النسخۃ الہندیۃ ۲/۴۵۸، دارالسلام رقم: ۳۲۰۷)
أخرج ابن أبی شیبہ عن ابن مسعود قال: أذیٰ المؤمن فی موتہ کأذاہ فی حیاتہ ۔ (مصنف ابن أبی شیبہ ، مؤسسہ علوم القرآن ۷/۴۳۲، رقم: ۱۲۱۱۵)
قال الطیبی إنہ لا یہان المیت کما لا یہان الحي ۔(حاشیۃ /۶، مشکوٰۃ، کتاب الجنائز، باب دفن المیت ، الفصل الثانی /۱۴۹)
إکرام المیت مندوب إلیہ فی جمیع مایجب کإکرامہ حیا، وإہانتہ منھی عنہا کما فی الحیوٰۃ ۔(شرح الطیبي ، کتاب الجنائز، باب دفن المیت   والآدمی محترم بعد موتہ علی ماکان علیہ فی حیاتہ فکما لا یجوز التداوی بشییء من الآدمی الحي إکراما لہ لا یجوز التداوی بعظم المیت۔ (شرح السیر الکبیر