بم دھماکے یاکسی اورحادثے میں جب کئی افرادایک ساتھ ہلاک ہوجائیں توجس کے بارے میں کسی علامت سے معلوم ہوجائے کہ یہ مسلمان ہے یاکافرتومسلمان کی نمازجنازہ اداکی جائے گی اورکافرکی نہیں ،اوراگرعلامت کے ذریعے معلوم نہ ہوپائے توپھرعلاقے کااعتبارکیاجائے گاکہ اگرمسلمانوں کاعلاقہ ہے توانہیں مسلمان تصورکرکے نمازجنازہ اداکریں گے اوراگرکافروں کاعلاقہ ہے تونمازِجنازہ نہیں پڑھیں گے،اوراگردھماکے میں مرنے والوں کے بارے میں یقینی طورپرمعلوم ہوکہ اس میں مسلمان بھی ہیں اورکافربھی توعلامت کے ذریعے مسلم یاکافرہوناواضح ہوتووہی حکم ہوگاجواوپرمذکورہوااوراگرعلامت سےمسلم یاکافر ہوناواضح نہ ہوتوپھرسب میتوں کوسامنے رکھاجائے گااورنمازِ جنازہ فقط مسلمان میتوں کی نیت سے اداکی جائے ،پھراگرمسلمانوں کی تعدادزیادہ ہوتوسب کومسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیں گےوگرنہ کسی ایسی علیحدہ جگہ دفن کریں جومسلمانوں یاکافروں کاقبرستان نہ ہو