یہاں پر دو مسئلے ہیں۔(1) ایک وہ جو آپ نے دریافت کیا کہ اس صورت میں نماز جنازہ کا تکرارکیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟اور(2) دوسرا یہ کہ پردیس میں انتقال کرنے والی میت کو اس کےآبائی وطن میں تدفین کے لئے لے جانا۔ان دونوں کا علی الترتیب حکم شرع درج ذیل ہے۔
پہلامسئلہ کہ امام مسجدمحلہ جوتقوی وپرہیز گاری میں اولیاء میت سے افضل وبہتر ہے،نے جنازے کی نماز پڑھائی اور اس میں میت کے اولیاء میں سے کوئی شریک نہ بھی ہوا ہو تب بھی اس صورت میں اولیاء میت کےلئے نماز جنازہ کا تکرار جائز نہیں۔
جیساکہ فقہاء کرام نے واضح طور پر اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ امام مسجد محلہ جواولیاء میت سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہو اس کو نماز جنازہ پڑھانے کے حوالے سے میت کے اولیاء پرحق تقدم حاصل ہے اور جس کو اولیائے میت پرحق تقدم حاصل ہو تو اس کے نماز جنازہ پڑھانے کے بعد میت کے اولیاء کےلئے نماز جنازہ کا تکرار جائز نہیں ۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ میت کووفات والے شہر سے دوسرے شہر کوتدفین کے لئے لے جانابہتر نہیں، بلکہ مستحب یہ ہےکہ اسی وفات والے شہر میں ہی تدفین کی جائے ۔