کیا بیوی سے تین ماہ دور رہنےسے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

    پوچھی گئی صورت میں کسی طور پر طلاق واقع نہیں ہوئی اسی طرح3ماہ 13 دن تک اگر آپ اپنی بیوی کو اپنے کمرے میں آنے نہ دیں تواس سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔یونہی کسی پر قسم ڈالی جائے اور وہ اس قسم کو اپنے اوپر لازم نہ کرے تو اس سے قسم منعقد نہیں ہوتی چنانچہ اگر آپ کے ان الفاظ ” تم کوقسم ہے تم  میرے کمرے  میں نہ آنا سے بقول آپ کے کہ آپ کی بیوی نے قسم اپنے اوپر لازم نہیں کی تھی تو ان پر کسی طرح کی قسم لازم نہیں ہوئی لہٰذاوہ آپ کے کمرےمیں آجائیں تو قسم کا کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا ۔

    اور عورت کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کا حق پہچانے اور شوہر کی دلآزاری سے باز آئے اور شوہر سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بھی سچی توبہ واستغفار کرے۔بہرحال جب تکلیف پہنچانے والا شرمندہ ہوجائے اوردوسرے کے پاس معافی کے لئے آئے تو اس کو فراخ دلی کے ساتھ معاف کرنا چاہئے کہ معاف کرنے کی دنیا و آخرت میں بڑی برکتیں وفضیلتیں ہیں