حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے روضہ مبارکہ کے علاوہ عام قبروں کی زیارت کے لیے جانا عورتوں کے لیے مطلقاً منع ہے، اگرچہ باپردہ ہوکر جائیں، علماء نے فرمایا کہ عورت سے جمعہ ساقط ہے، نماز جنازہ اور جماعت کی حاضری منع ہے، تو جب عورت کو ان تمام عبادات کے لیے نکلنے سے روک دیا گیا جو کہ شریعت میں بلند مقام رکھتی ہیں، تو اس کا قبرستان جانا بدرجہ اولیٰ ممنوع قرار پائے گا۔
باقی جہاں تک ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا والی روایت کا تعلق ہے، تو اس میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہُ عنہا نے سفر حج کے دوران اپنے بھائی حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہُ عنہ کی قبر کی زیارت فرمائی، تو یہ زیارت گھر سے بطور خاص قبرستان جاکر نہیں کی، بلکہ دورانِ سفر اتفاقاً ہوئی اور اس اتفاقی زیارت کی گنجائش تھی، بشرطیکہ منکراتِ شرعیہ سے پاک ہو، لیکن دورِ حاضر میں عورتوں کے لیے فتنہ، نوحہ، بے صبری اور دیگر منکرات سے پاک زیارت کا امکان نادر، بلکہ معدوم ہے، لہٰذا فقہائے کرام نے اس دور میں اتفاقی زیارت سے بھی منع فرمادیا، تو اب عورتوں کے لیے زیارتِ قبور مطلقاً ہی منع ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم