اتھر وید،یجروید،منو کام شاستر میں جہاد
اتھروید، یجروید، منوکام شاستر، منواسمرتی اور دیگر مذہبی کتابوں میں جو جنگ جہاد یا مذہبی لڑائی کا تصور ہے اس کا اجمالی خاکہ حاضر ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) اپنے دشمنوں پر چڑھائی کر دے۔ (اتھروید)
(۲) دشمنوں کو خالی ہاتھ کردے۔ (اتھروید)
(۳) ہزار پانچ سو جو بھی دشمن ہو ان سب کا خاتمہ کر ڈالو۔ (رگوید)
(۴) دشمنوں کو اس طرح جلا کر راکھ کر دیں جس طرح آگ گوشت کو راکھ کر دیتی ہے۔ (اتھروید)
(۵) جب دھرم کے خاتمہ کا امکان ہو ایسے وقت میں دھرم کے لئے قتل یا جنگ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہیں۔ (منواسمرتی)
(۶) استاد، بچہ، بزرگ مذہبی گرنتھوں کا عالم اگر ظالم ہوکر مارنے کے لئے آئے تو اس کو بلا جھجک مار ڈالیں۔ (منواسمرتی)
(۷) جو کسی کو مارنے میں اُتاؤلا ہو تو اس کو قتل کرنے میں کوئی پاپ نہیں۔ (منواسمرتی)
(۸) جو جنگ میں ہتھیاروں کے ذریعہ مارا جاتا ہے اس کو یگ کا پھل اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ (منواسمرتی)
(۹) جنگ کرنے والا جو جنگ میں پیٹھ نہ دکھائے وہ سیدھا سورگ کو جاتا ہے۔ (منواسمرتی)
(۱۰) جو فوجی جنگ میں مارا جاتا ہے وہ سورگ حاصل کرتا ہے اور جو بھاگ جاتا ہے وہ نرک میں ذلیل ہوتا ہے۔ (منواسمرتی)
(۱۱) اِندر کے حکم سے دشمنوں کو مارو۔ دشمنوں کو پیس دو، تمہارا دشمن چھوٹنے نہ پائے۔ (اتھروید)
(۱۲) کسی کو نہ چھوڑو خطرناک حملہ کرنے والوں کو قتل کر دو ۔
(اتھروید)
(۱۳) جو جنگ سے بھاگ جاتا ہے اس کو پاپ لگتا ہے۔
(ستیارتھ پرکاش)
(۱۴) جو جنگ سے بھاگ جائے اس کا نیک عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
(ستیارتھ پرکاش)
(۱۵) وہ شہرت کو پاتا ہے جس نے دھرم کو سامنے رکھ کر بخوبی جنگ کی ہو۔
(ستیارتھ پرکاش)
(۱۶) جنگ میں گھوڑا، عورت، دولت، اناج جو فتح کرکے حاصل کر لے وہ اسی کا ہے۔ (ستیارتھ پرکاش)
(۱۷) فوج کے آدمی فتح کی ہوئی چیزوںمیں سے سولہواں حصہ راجا کو دے۔ (ستیارتھ پرکاش)
(۱۸) سب نے مل کر جو فتح کیا اس میں سے راجہ سولہواں حصہ فوج کے سپاہیوں کو دے۔ (ستیارتھ پرکاش)
(۱۹) اگر کوئی لڑائی میں مر گیاتو اس کا حصہ اس کی عورت اور اولاد کو دیدے۔ (ستیارتھ پرکاش)
(۲۰) فتح پاکر ان سے اقرار نامہ لکھا لے کہ ہمارے حکم کے مطابق یعنی دھرم سے منسلک کام کرکے رعایا کی دیکھ بھال کرے۔
(ستیارتھ پرکاش)
(۲۱) بغیر صف بندی کے لڑائی نہ کرے۔ (ستیارتھ پرکاش)
(۲۲) توجا اور دشمنوں کے پاس پہنچ ان دشمنوں میں سے کسی کو نہ چھوڑنا۔ (رگوید)
(۲۳) دشمن قابو میں آجائے تو اسے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
(ویدرنیتی)
(۲۴) دشمن کمزور ہے تو اس کو مار ڈالے بچا ہوا دشمن خطرہ پیدا کرتا ہے۔
(ویدرنیتی)
(۲۵) دشمن کو چاروں طرف سے گھیرے اور اس کے صوبوں کو ہر طرح سے نقصان پہنچائے۔ (منواسمرتی)
(۲۶) دشمن کا اناج،سبزہ، پانی ایندھن تباہ و برباد کرتا رہے۔
(منواسمرتی)
(۲۷) اے انسان! جس طرح دشمنوں کو ہلاک کیا جاسکے وہ کرے۔ (یجروید)
(۲۸) اے راج پُرش! آپ دھرم کے مخالف دشمنوں کو آگ میں جلا ڈالیں۔ (تجروید)
(۲۹) اے جاہ و جلال والے پُرش! جو ہمارے دشمنوں کو حوصلہ دے اس کو الٹا لٹکا کر سوکھی لکڑی کی طرح جلائیں۔ (یجروید)
(۳۰) اگر دیکھے کہ فتنہ پھیلتا ہے تو بلا جھجک جنگ کا راستہ اختیار کرے۔
(منودھرم شاستر)
(۳۱) دشمنوں پر شب خون مارے اور رات کو ڈرائے۔
(منودھرم شاستر)
(۳۲) دشمنوں کے علاقے اجاڑ ڈالے، تالاب، فصلیں برباد کرے۔ (منودھرم شاستر)
(۳۳) اس طرح لڑنا چاہئے کہ دشمن پر مکمل فتح حاصل کرے۔
(منودھرم شاشٹر)
(۳۴) جب جنگ کے لئے بلایا جائے تو کشتریوں کےدھرم کو یاد کر کے بلا خوف جنگ میں شامل ہونا چاہئے۔ (ستیارتھ پرکاش)
(۳۵) بڑی ہوشیاری سے دشمن کے ساتھ جنگ کرے جس میں اپنی کامیابی ہو۔ (ستیارتھ پرکاش)
(۳۶) وہی کام کرنا چاہئے جس سے دشمن کو قابو کیا جاسکے۔
(ستیارتھ پرکاش)
(۳۷) اے تیج دھاری و دوان پروش! دشمن کے کھانے پینے اور کام کاج کے مقامات کو اچھی طرح اجاڑ دیں۔ (یجروید)
(۳۸) دشمن کو اپنی پوری طاقت سے ماریں۔ (یجروید)
(۳۹) ویدوں کے علم کو جاننے والا آپ کے دشمنوں کے گائوں کو تباہ کرکے آپ کے مرتبہ کو بلند کرتا ہے اسی طرح دیگر عالم لوگ بھی کریں۔ (تجروید)
(۴۰) دھرم کے مخالفوں کو زندہ جلا دو۔ (رگوید)
(۴۱) مخالفوں کا جوڑ جوڑ اور بند بند کاٹ دیا جائے۔ (یجروید)
(۴۲) اے پرا کرمی سپہ سالار حفاظت کی خاطر تلوار، توپ، بندوق پکڑیئے۔ (یجروید)
(۴۳) دشمنوں کی فوج کو درخت کے مانند کاٹ کر فتح حاصل کیجئے۔
(یجروید)
(۴۴) یہ وید کا قول ہے کہ سبھی فوجیوں کے ذریعہ ایک ساتھ جیتا ہوا دھن راجہ فوجیوں میں بانٹ دے۔ (منواسمرتی)
(۴۵) جو چیز حاصل نہیں ہوتی ہے طاقت کے ذریعہ اس کو پانے کی خواہش کر۔ (منو اسمرتی)
(۴۶) حملہ کے لئے ہر وقت تیار رہے۔ (منودھرم شاشتر)
(۴۷) دشمنوں کی کمزوری کا ہمیشہ کھوج لگاتا رہے۔
(منودھرم شاشتر)
(۴۸) ساری مخلوق کو قابو کرلے چاہے یہ کام طاقت کے بل پر ہی کیوں نہ ہو۔ (منودھرم شاشتر)
(۴۹) دشمن کے چیلنج کا سامنا ہو تو منہ نہ موڑ۔ (منودھرم شاشتر)
(۵۰) دشمنوں سے لڑنے کے لئے اسے کھشتری کا فرض یاد رکھنا چاہئے۔ (منودھرم شاستر)
(۵۱) جو ہم سے دشمنی کرے اس کو ہم شیر کے منہ میں ڈال دیں۔
(یجروید)
محترم قارئین! آپ خود فیصلہ کریں کہ مذکورہ بالا مذہبی کتابوں میں، اشلوکوں میں، منتروں میں کس قدر وضاحت کے ساتھ جنگ، جہاد، مذہبی لڑائی، مال غنیمت کا حصول، دشمنوں کا قتل، جیتی ہوئی جنگ میں عورتوں کو حاصل کرنا، مال و منال کو حاصل کرنا، دشمنوں کے تالاب، فصلیں، درخت پودے کو برباد کرنا، مخالفوں کو آگ میں جلانا۔ شب خون مارنا، رات کو ڈرانا، الٹا لٹکا کر جلانا، جنگ کا راستہ اختیار کرنا، دشمن کو قابو میں کرنا، تلوار، توپ بندوق اٹھانا، مخالفوں کا جوڑ جوڑ کاٹنا، کیا ان عبارتوں کو تشدد پر محمول نہیں کیا جاسکتا ہے؟ پھر ملعون وسیم رضوی کو ان باتوں پر اعتراض کیوں نہیں؟ اس نے عدالت عظمی میں ان عبارتوں کو نکالنے کے لئے عرضی داخل کیوں نہیں کیا؟ کیا ملعون وسیم رضوی کی سوچ، فکر جانبدارانہ ہے؟ انصاف پسند انسان ہمیشہ جانبدارانہ نہیں بلکہ غیرجانبدارانہ سوچ رکھتا ہے۔