تعصب کی آگ

تعصب کی آگ
ملعون وسیم رضوی نے تعصب کی آگ میں جل بھن کر مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل چپکانے کی کوشش کی اور قرآن مقدس کو نفرت پھیلانے والی کتاب قرار دیا۔
محترم قارئین! آپ تاریخ کا مطالعہ کریں، دنیا میں شاید ہی کسی ایسے مذہب کا وجود ہو جس میں جنگ و جہاد کا تصور موجود نہ ہو بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگی اصول و قوانین میں اختلاف کے ساتھ اس کا حکم تقریباً ہر مذہب میں پایا جاتا ہے اور ہر مذہب کو یہ مذہبی اختیار حاصل ہے کہ اپنے مذہب کا تحفظ کرے۔ نظریہ جنگ و جہاد کے عنوان سے جب ہم قدیم ہندو دھرم کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے بڑھ کر ان کے مذاہب میں بھی جنگی دستور موجود ہے۔ قدیم ہندو دھرم، گرنتھوں، اور دھرم شاستروں میں بھی ظلم و ستم، خونریزی سے دفاع، جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے جنگ و جہاد کو لازمی قرار دیا ہے۔ جہاد ایک مذہبی لفظ ہے اور مذہبی جنگ جہاد ہے۔ ہر مذہب میں مذہبی جنگ ہے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ہر مذہب میں جہاد ہے۔