نکاح اور زنا

نکاح اور زنا
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۸۶؍ پر ’’جسم فروشی حلال ہے‘‘ عنوان کے تحت لکھتا ہے کہ درالمختار میں لکھا ہے کہ
’’اگر کوئی شخص اطلاع دے کہ میں رقم دے کر کسی عورت کے ساتھ جماع کرتا ہوں تو اسلامی قانون میں اس کا یہ کام قابل سزا نہیں۔‘‘
ملعون وسیم رضوی نیتا گری کرتے کرتے مفتی بننے کی کوشش کرنے لگا اور منہ کے بل گر گیا۔
محترم قارئین سب سے پہلے میں الدرالمختار کی اصل عربی عبارت آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
الدرالمختار، جلد چہارم، کتاب النکاح، باب المہر، صفحہ ۲۳۹
لوتزوج علی ان یھب لابیھا الف درھم لھا مھرالمثل وھب لہ اولا۔
ترجمہ: ’’اگر کسی نے اس بات پر نکاح کیا کہ اس کے باپ کو ایک ہزار دے گا تو اس عورت کے لئے مہر مثل ہوگا وہ دے یا نہ دے۔‘‘
وضاحت: محترم قارئین! اب میں آپ کے سامنے اس مسئلہ کی وضاحت پیش کرتا ہوں، یہاں مہر کا ذکر ہے۔ ملعون وسیم رضوی کو سمجھنا چاہئے کہ یہ کتاب النکاح اور باب المہر ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اس سے یہ کہے کہ میں تمہارے والد کو ایک ہزار درہم دوں گا تو یہ درہم دے یا نہ دے اس عورت کے لئے مثل مہر ہو جائے گا۔ یہاں پر ایک ہزار درہم کی بات ہو رہی ہے نہ کہ ایک ہزار درہم دے کر جماع کرنے کی بات ہو رہی ہے اور ایک ہزار مہر کا ذکر ہے اور اسلامی قانون میں نکاح کے لئے مہر دینا واجب ہے۔ لوتزوج کا مطلب ہوتا ہے اگر نکاح کرے اور جاہل ملعون وسیم رضوی نے سمجھ لیا اگر جماع کرے۔ اس کا مفہوم یہ نکلا کہ اگر ایک ہزار درہم مہر میں دے کر نکاح کرے، اس عبارت میں لفظ مہر کا ذکر اس لئے نہیں ہے کہ یہ باب المہر ہے، سیاق و سباق میں مہر کا ذکر ہے، اور ملعون وسیم رضوی نے یہ سمجھ لیا کہ اگر کسی نے ایک ہزار درہم دے کر جماع کر لیا۔
ملعون وسیم رضوی اپنی شیخی بگھارتے ہوئے لکھتا ہے
’’اسلامی قانون میں اس کا یہ کام قابل سزا نہیں۔‘‘
قارئین! جب مہر کی رقم دے کر شادی کریں گے تو اس میں سزا کیوں ہوگی؟ کیا کسی مذہب میں شادی کی سزا متعین کی گئی ہے۔ جب رقم دے کر شادی نہیں کریں گےبلکہ جماع کریں گے تو زنا ہوگا، اس کی سزا اسلام میں سوکوڑے مارنا یا سنگسار کرنا ہے۔ ملعون وسیم رضوی نے لوتزوج کا مطلب سمجھا ہی نہیں لوتزوج کو سمجھنا تو دور کی بات ہے جو ’’ابن‘‘ اور ’’بنت‘‘ نہ سمجھ سکے۔ جو ’’اکل‘‘ اور ’’شرب‘‘ نہ سمجھ سکے، جیسا کہ آپ نے پچھلے صفحات میں پڑھا وہ لو تزوج کیا سمجھے گا۔
بلاشبہ اسلام میں زنا کی سزا سخت ہے۔ دوسرے مذہب میں زنا کی سزا کیا ہے وہ بھی آپ ملاحظہ فرمائیں۔
منوجی ہندو دھرم شاشتر، باب ۱۱، شلوک ۱۷۲، میں بیان کرتے ہیں۔
’’باپ کی بہن کی بیٹی، خالہ کی بیٹی، یا ماموں کی بیٹی سے مباشرت کرنے والے کے لئے چاند رائن برت کا کفارہ ہے۔ ‘‘(یہ ایک برت ہے جس میں چاند کی روشنی گھٹنے کے ساتھ کھانے میں ایک ایک لقمہ گھٹاتے چلے جائیں پھر روشنی بڑھنے کے ساتھ ایک ایک لقمہ بڑھاتے چلے جائیں)۔
(مذکورہ بالا عورتوں کے ساتھ مباشرت کرنے کا کفارہ چاند رائن برت ہے اس سے ان کے گناہ دھل جاتے ہیں۔)
منودھرم شاشتر باب ۱۱، شلوک ۱۷۵
’’مرد سے خلاف فطرت کام کرنے والا اور چلتی ہوئی بیل گاڑی میں عورت سے مباشرت کرنے والا اپنے کپڑے سمیت نہائے گا۔‘‘
(اس گناہ کی سزا اس مذہب میں یہی ہے کہ جس کپڑے میں وہ گناہ کیا اسی کپڑے میں نہا لے اس کا گناہ معاف ہو جائے گا، ’’ مصنف آسیؔ‘‘)
منودھرم شاشتر، شلوک ۳۵۶ میں ہے کہ
’’اگر کسی جوان لڑکی کی مزاحمت کے باوجود جرم کا ارتکاب کرنے والا فوری جسمانی سزا کا مستحق ہے لیکن اگر کوئی اپنی ہم ذات لڑکی کی رضا مندی سے اس کے جسم سے فائدہ اُٹھاتا ہے تو جسمانی سزا کا حکم نہیں۔‘‘
ملعون وسیم رضوی کو اسلام پر کیچڑ اچھالنے سے قبل دوسرے مذاہب کی کتابوں کا بھی مطالعہ کر لینا چاہئے تھا کہ کیا مرد سے اغلام بازی کرنے کی سزا یہی ہے کہ کپڑا سمیت نہالے۔ ملعون وسیم رضوی کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟
*******