منواسمرتی کا حوالہ

منواسمرتی کا حوالہ
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۸۶ پر ایک عنوان ’’ماں کے ساتھ زنا جائز ہے‘‘ لکھا، اس کے آگے وہ لکھتا ہے۔
’’فتاوی قاضی خان میں ان باتوں کے بارے میں کہا گیا ہے جو حرام ہے۔ ان باتوں کے لئے اسلامی قانون میں کسی بھی سزا کے لئے دفعہ نہیں ہے۔ وہ باتیں یہ ہیں؛ اپنی بیوی کی بہن سے شادی کرنا، اپنی ماں سے شادی کرنا، یا ایسی عورت سے شادی کرنا جو پہلے سے شادی شدہ ہو یہ سب اسلام کے مطابق حلال ہے۔‘‘
محترم قارئین! یہ جھوٹ بولتے بولتے اب اسلامی قانون کو بھی غلط طریقے سے بیان کر رہا ہے۔ سب سے پہلے میں آپ کے سامنے فتاوی قاضی خان کی وہ عربی عبارت پیش کرتا ہوں، پھر اس کی وضاحت کرتا ہوں، پھر آپ کو سمجھ میں آئے گا کہ اس عبارت کا اصل مفہوم کیا ہے اور ملعون وسیم رضوی نے سمجھا کیا ہے۔ اگر کوئی ’’املی‘‘ کو ’’املا‘‘ پڑھ لے تو مفہوم بدل ہی جائے گا کہ املی درخت میں ہوتی ہے اور ’’املا‘‘ قلم سے لکھا جاتا ہے۔ دونوں کا مفہوم و مطلب ایک کیسے ہو سکتا ہے؟ ہر میدان کے ماہرین الگ الگ ہوتے ہیں اور اسی فن میں اس کو مہارت ہوتی ہے۔ جیسے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ہوتے ہیں، اعلیٰ تعلیم اعلی فکر ہوتی ہے، اگران سے سرجری کے لئے کہا جائے تو معذرت کر لیں گے اور کہیں گے یہ میرے بس کی بات نہیں۔ جو جس میدان کا ہوگا اسی میں اس کو مہارت ہوگی۔ ملعون وسیم رضوی کو دیکھ لیجئے۔ کچھ مہینے سعودی میں باورچی گری کی اور ہندوستان آکر نیتا گری کی۔ نیتاگیری کرتے کرتے مولوی، ملا، عالم اور فاضل بننے کی کوشش میں املا کو املی سمجھ لیا اور کہہ دیا کہ اسلام میں دوسرے کی بیوی سے شادی کرنا جائز ہے۔
اب میں آپ کے سامنے فتاوی قاضی خان کی اصل عبارت پیش کرتا ہوں پھر اس کی تشریح کرتا ہوں۔
فتاویٰ قاضی خان، جلد اول، کتاب النکاح، باب فی المحرمات صفحہ ۱۶۹
مطبوعہ حافظ کتب خانہ مسجد روڈ کوئٹہ
لوتزوج بمنکوحۃالغیر وھولا یعلم انھا منکوحۃ الغیر فوطئھا تجب العدۃ۔
ترجمہ: ’’اگر کسی نے دوسرے کی بیوی سے نکاح کر لیا اور وہ نہیں جانتا ہے کہ دوسرے کی بیوی ہے اور اس سے ہمبستری کر لی تو اس پر عدت واجب ہے۔‘‘
محترم قارئین! آپ نے ترجمہ پڑھ لیا۔ اب میں اس کی وضاحت کرتا ہوں تاکہ اس کی حقیقت واضح ہوجائے۔
جیسے کوئی عورت لکھنو سے ممبئی آئی اور اس نے کہا میں بے سہارا ہوں، میرا کوئی نہیں ہے، مجھ سے شادی کر لو، کسی نے اس عورت سے شادی کرلی اور ہمبستری کر لی، کچھ دنوں کے بعد اس کا شوہر تلاش کرتے ہوئے لکھنو سے ممبئی آگیا اور کہا کہ یہ میری بیوی ہے تو اب اس عورت پر عدت واجب ہے یعنی تین حیض آنے تک پہلا شوہر اس سے ہمبستری نہ کرے۔ وہ اس لئے کہ دوسرے شوہر نے اس کے ساتھ ہمبستری کی ہے، ایسا تو نہیں کہ دوسرے شوہر سے اس کے پیٹ میں بچہ ہے، اگر تین حیض تک انتظار کیا جائے تو بات صاف ہو جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ پیٹ میں بچہ ہے یا نہیں۔ اگر حیض نہیں آیا اور حاملہ ہوگئی تو اس بچے کا باپ دوسرا شوہر قرار پائے گا، اس سے اس کا نسب ثابت ہوگا۔ ایسے واقعات ہوبھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ اگر ہوگیا تو اس کا حل بتا دیا گیا۔ اس عربی عبارت کے شروع میں لفظ ’’لو‘‘ آیا ہوا ہے اس کا مطلب ہوتا ہے اگر اور حرف ’’اگر‘‘ حرفِ شرط ہے ’’اذا فات الشرط فات المشروط‘‘ جب شرط ختم ہو جائے تو مشروط ختم ہو جائے گا۔ جاہل ملعون وسیم رضوی، حرفِ شرط کو سمجھا ہی نہیں۔ میں مثال دے کر سمجھاتا ہوں۔ جیسے کسی نے کہا اگر ملعون وسیم رضوی نے چوری کی تو اس کی سزا جیل ہے، اس عبارت سے کوئی یہ نہیں سمجھے گا کہ ملعون وسیم رضوی نے چوری کی ہے۔ یا اس کے لئے چوری کرنا جائز ہے۔ ملعون وسیم رضوی نے یہی سمجھ لیا ہے کہ چوری کی اور چوری کرنا جائز ہے۔ اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ایک قاعدہ کلیہ بتایا گیا ہے جس کو ملعون وسیم رضوی سمجھ نہیں پایا اور بے دھڑک لکھ دیا کہ اسلام میں دوسرے کی بیوی سے شادی کرنا جائز ہے۔ جب کہ قرآن کا فرمان ہے، سورہ نساء میں ہے والمحصنت من النساء ۔
یعنی شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں تو پھر کس طرح دوسرے کی بیوی سے شادی کرنا اسلام میں جائز ہوسکتا ہے؟ کیا اس کا جواب ملعون وسیم رضوی کے پاس ہے؟؟ یا تو کم عقل ملعون وسیم رضوی نے اس کو سمجھا ہی نہیں یا اگر سمجھنے کے بعد ایسا کہتا ہے تو یہ اسلام کو بدنام کرنے کی ایک ناکام سازش ہے۔
مذہب اسلام میں سزا مقرر ہے، اگر جرم بڑا ہوا تو سزا بھی بڑی ہوتی ہے، اگر جرم چھوٹا ہو تو سزا بھی چھوٹی ہوتی ہے، اور سزا چھوٹے، بڑے، امیر، غریب سب کے لئے یکساں ہے۔ لیکن دیگر مذاہب میں ایسا نہیں ہے۔ ملعون وسیم رضوی کو دوسری مذاہب کی مذہبی کتابوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے، اس کو چاہئے کہ منودھرم شاشتر باب ۸، شلوک ۲۷۵، کو غور سے پڑھے اس میں لکھا ہے کہ
’’اگر کوئی اعلیٰ ذات والے پر تھوکے تو اس کے دونوں ہونٹ کاٹ دے، اگر پیشاب کرے تو اس کا عضو تناسل کاٹ دے، اس کی طرف ہوا خارج کرے تو اس کی مقعد کاٹ دے۔‘‘
ایک اور سزا کے بارے میں سنئے
منودھرم شاشتر باب ۸، شلوک ۳۶۲
’’اگر کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ جنسی فعل کرتی ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا سر منڈا دیا جائے۔‘‘
منواسمرتی، ادھیائے ۸، شلوک ۳۷۰ میں ہے کہ
’’جو عورت چھوٹی لڑکی کی شرم گاہ میں انگلی ڈال کر عیب دار کرے اس کا سر منڈا دینا چاہئے۔‘‘
(نوٹ: ذرا غور کریں! اتنے بڑے پاپ/ گناہ کی سزا صرف سر منڈانا ہے۔)