ملعون وسیم رضوی کا بڑا جھوٹ
محترم قارئین! آپ کے سامنے ملعون وسیم رضوی کا ایک جھوٹ بیان کرنے جا رہا ہوں، یہ جھوٹ بھی بہت بڑا ہے۔ پہلے اس کا بیان کردہ واقعہ سن لیجئے پھر میرا حوالہ اور ثبوت دیکھئے پھر فیصلہ کیجئے کہ اس کا جھوٹ کتنا بڑا ہے۔ وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۹۱ پر لکھتا ہے۔
’’فاطمہ جو محمد کی بیٹی تھی اور علی کی بیوی تھی، زیادہ دن باحیات نہیں رہی اور ان کی شہادت ہوگئی اور ان کی شہادت کے پیچھے محمد کا دوست عمر جو بعد میں دوسرا خلیفہ بنا، اس کا ہاتھ تھا۔ عمر نے فاطمہ کے گھر پر آکر اپنے ساتھیوں کے ساتھ حملہ کیا اور دروازے میں آگ لگا دی جو دروازہ فاطمہ کے اوپر گرا اور فاطمہ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ یہ حادثہ محمد کے وصال کے کچھ دنوں کے بعد ہی وقوع پزید ہوا اور فاطمہ کی موت ہوگئی۔‘‘
آگے صفحہ ۹۳ پر لکھتا ہے کہ ’’والد کے انتقال کے بعد فاطمہ صرف ۹۰ دن باحیات رہیں۔ اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر اور ان کے ساتھیوں نے جب آپ کے گھر کو آگ لگائی تھی اس وقت آپ دروازہ کے پیچھے کھڑی تھیں، جب دروازہ کو دھکا دے کر دشمن گھر میں داخل ہوا، آپ دیوار اور دروازہ کے درمیان پھنس گئیں جس کی وجہ سے آپ کے سینے کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور آپ کا وہ بیٹا جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا وہ بھی انتقال کر گیا جس کا نام پیدائش سے قبل ہی محسن رکھ دیا گیا تھا۔‘‘
وہ صفحہ ۸۴ پر لکھتا ہے کہ
’’عمر علی کے گھر پر گئے، وہاں طلحہ زبیر اور مہاجروں کی پوری جماعت موجود تھی، عمر نے دھمکی دے کر کہا۔ اللہ کی قسم! اگر تم لوگ میرے ہاتھ پر بیعت (وفاداری کا حلف) نہیں کرو گے تو میں تمہارے پورے گھر والوں کو زندہ جلا دوں گا۔ یہ سن کر زبیر تلوار لے کر باہر نکلے لیکن گر گئے اور تلوار بھی ہاتھ سے چھوٹ گئی، بعد میں عمر کے لوگ اسے قید کرکے لے گئے۔‘‘
تبصرہ:سب سے پہلے تاریخ کے حوالے سے یہ دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کا وصال کب ہوا؟ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال کب ہوا؟ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کب قائم ہوئی؟ سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کب قائم ہوئی؟ حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کب اور کیسے ہوئی؟ یہ سب جاننے کے بعد ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ سے پردہ اُٹھ جائے گا۔
طبقات ابن سعد جلد سوم صفحہ ۳۰ پر ہے کہ
حضور اقدس ﷺ کا وصال ۱۱ ھ میں ہوا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ۱۱ ھ میں خلیفہ ہوئے اور طبقات ابن سعد، جلد سوم کے ہی صفحہ ۴۵ پر ہے کہ ۲۲؍جمادی الآخرہ ۱۳ ھ کو آپ کا وصال ہوا۔
۱۳ ھ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم بنے اور فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ۱۱ ھ میں ہوا ۔
طبقات ابن سعد، جلد نمبر۸، صفحہ ۴۷ پر ہے کہ آپ نے ۱۱ ھ میں تقریباً ۲۹ ؍ سال کی عمر میں ۳؍ رمضان کو منگل کی رات داعی اجل کو لیبک کہا۔
اب آئیے حضرت فاطمہ کے وصال کے بارے جانتے ہیں کہ
طبقات ابن سعد، جلد ۸، صفحہ ۴۶ پر ہے کہ
ابورافع اپنے والد سے اور وہ سلمی سے روایت کرتے ہیں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہوئیں، وفات والے دن علی باہر چلے گئے تو فاطمہ نے کہا مجھے غسل کرا دیجئے۔ چنانچہ حضرت سلمیٰ نے آپ پر پانی ڈالا، آپ نے نہایا، میں نے کپڑے دیئے تو انہوں نے کپڑے بدلے، مجھے چارپائی بچھانے کے لئے کہا تو میں نے حکم کی تکمیل کی پھر آپ چار پائی پر قبلہ رخ ہوکر بولیں، اب میں فوت ہو جائوں گی، میں نے غسل کرلیا ہے، لہٰذا کوئی میرا جسم نہ کھولے، پھر آپ کی وفات ہوگئی، پھر میں نے علی کو خبر دی، پھر آپ نے تجہیز وتکفین کی اور غسل نہ دیا۔
محترم قارئین! ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ملاحظہ کیجئے۔
جھوٹ نمبر ۱:
’’اگر میرے ہاتھ پر بیعت نہ کرو گے تو تمہارے پورے گھر والوں کو زندہ جلا دوں گا۔‘‘
تبصرہ: جب فاطمہ زہرا کا انتقال ہوا اس وقت حضر ت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ کیسے کہیں گے کہ میرے ہاتھ پر بیعت کرو۔ حضرت فاطمہ زہراء کے وصال کے دو سال بعد تک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم رہی۔ یہ ہے ملعون وسیم رضوی کا سفید جھوٹ۔
جھوٹ نمبر۲:
’’فاطمہ کی شہادت میں محمد کے دوست عمر کا ہاتھ تھا۔‘‘
تبصرہ: ابھی آپ نے طبقات ابن سعد کا حوالہ ملاحظہ کیا کہ آپ کی وفات بیماری کی وجہ سے ہوئی پھر بھی ملعون وسیم رضوی حضرت عمر پر جھوٹا الزام لگا رہا ہے کہ حضرت فاطمہ زہراء کی شہادت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھا، یہ جھوٹ بھی ثابت ہوگیا۔
جھوٹ نمبر ۳:
’’دروازہ فاطمہ کے اوپر گرا اور فاطمہ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور فاطمہ کی موت ہوگئی۔‘‘
تبصرہ: دروازہ گرا، پسلیاں ٹوٹ گئیں، اس میں حضرت فاطمۃالزہرا کا انتقال ہوگیا۔ یہ روایت نہ تاریخ طبری میں ہے نہ طبقات ابن سعد میں ہے نہ سیرت ابن ہشام میں ہے بلکہ طبقات ابن سعد نے تو وفات کی وجہ بیماری بتائی ہے۔
ذرا غور کیجئے! اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسا ظلم کرتے تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ بدلہ نہ لیتے؟ کیا حضرت علی حضرت عمر سے کمزور تھے؟ جنہوں نے خیبر کا قلعہ اکھاڑ دیا، جن کی بہادری پورے عرب میں مشہور تھی، جن کا لقب شیر خدا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملعون وسیم رضوی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کمزور یا بزدل خیال کرتا ہے حالانکہ ایسا کوئی واقعہ ہواہی نہیں بلکہ ایسی جھوٹی روایت ملعون وسیم رضوی کے ذہن کی پیداوار ہے۔
جھوٹ نمبر۴:
’’آپ کے سینے کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور آپ کا وہ بیٹا جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ بھی انتقال کر گیا جس کا نام پیدائش سے قبل ہی محسن رکھ دیا گیا تھا۔‘‘
تبصرہ: جھوٹ کی انتہا ہوگئی ذرا غور کیجئے کہ جو بچہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا، پیٹ میں ہے، اس کا نام کیسے رکھ دیا گیا اور یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ بیٹا ہی ہوگا یا پیٹ میں لڑکا ہی ہے۔ ملعون وسیم رضوی نے کوئی حوالہ بھی نہیں دیا ہے۔
یہ صرف من گھڑت کہانی ہے۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
آئیے! تاریخ کے حوالے سے اولاد فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے بارے جانتے ہیں۔ قاضی سلیمان سلمان منصور پوری اپنی کتاب ’’رحمۃللعالمین‘‘ جلد دوم، صفحہ ۱۱۱ ؍پر لکھتے ہیں کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے امام حسن، امام حسین، ام کلثوم اور زینب پیدا ہوئیں۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ سیدۃ النساء العالمین کی اولاد میں بعض نے محسن اور رقیہ کے نام بھی بڑھا دیئے ہیں۔ مورخین نے یہ نام نہیں لکھے۔ وہ بھی مانتے ہیں کہ محسن اور رقیہ دونوں کا انتقال بچپن میں ہوگیا تھا اس لئے ان کے حالات تاریخ میں نہیں ملے۔
تاریخ طبری، سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد کسی میں نہیں لکھا ہے کہ محسن کا انتقال پیٹ کے اندر ہی ہوگیا اور پیدا ہونے سے قبل ہی اس کا نام رکھ دیا گیا تھا۔
ملعون وسیم رضوی نے جیسے قسم کھا لی ہو کہ بات بات میں جھوٹ لکھوں گا اور حالاتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا میں بھی جھوٹ کا انبار لگا دیا۔