جیسا درخت ویسا پھل

جیسا درخت ویسا پھل
محترم قارئین! قلم و زبان سے انسان کی شخصیت اور ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔ اب میں آپ کے سامنے ملعون وسیم رضوی کے چند جملے بتاتا ہوں، آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ کتنے گندے ذہن کا انسان ہے اور اس کے ذہن و فکر پر کتنی گندگی چھائی ہوئی ہے۔
وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۱۳۷ پر لکھتا ہے
’’وہ بچہ پیدا کرکے اپنی اندام نہانی اتنی ڈھیلی کر لیتی ہیں کہ اس کا شوہر اس اندام نہانی میں سر ڈال کر اندر دیکھ سکتا ہے۔‘‘
میں ملعون وسیم رضوی کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ جیسا درخت ہوتا ہے ویسا ہی پھل لگتا ہے، املی کے درخت میں آم نہیں لگے گا۔ جو برتن میں ہوگا وہی اس سے ٹپکے گا، برتن میں شراب ہو تو اس سے دودھ نہیں ٹپکے گا، جو ملعون وسیم رضوی کے اندر تھا وہی باہر آیا۔ اور ہاں یہ تو اندر کی بات ہے کہ کس کی اندام نہانی ڈھیلی ہے اور کس کی نہیں ہے۔ پھر ملعون وسیم رضوی کو کیسے معلوم ہوا؟ شاید ملعون وسیم رضوی کو اس کا تجربہ ہوگا یا سر ڈال کر دیکھا ہوگا؟ کیوں کہ قبر کا حال تو مردہ ہی جانے۔