راون نے سیتا سے کیا کہا؟
شریمدوالمیکی رامائن، سرگ نمبر ۴۶، صفحہ نمبر ۴۴۸، مطبوعہ گیتا پریس گورکھپور میں لکھا ہے کہ راون سیتا کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ
’’خوبصورت مسکراہٹ، دلکش دانت، اور من موہک آنکھوں والی حسینہ، تمہارے یہ دونوں پستان سخت گول، باہم ملے ہوئے، بھرے ہوئے اور موٹے اُبھرے ہوئے منہ والے ہیں جس کی خواہش کی جائے تمہاری کمر اتنی پتلی ہے کہ مٹھی میں آجائے دونوں پستان ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ اے حسینہ دیوتا گندھرو یوکش اور کنیز ذات کی عورتوں میں بھی تم جیسی کوئی نہیں۔‘‘
اب ملعون وسیم رضوی بتائے کہ کیا یہ مذہبی کتابیں اور دیانند سرسوتی اپنے پیروکاروں کو جنسی تعلیم دے رہے ہیں؟ اس کا جواب ملعون وسیم رضوی کو دینا چاہئے۔
کسی انسان کو جنسی امراض لاحق ہو جائیں اور وہ کسی ڈاکٹر سے رجوع کرے اور ڈاکٹر اسے جنسی مشورہ دے تو کیا کوئی یہ کہے گا کہ ڈاکٹر نے فلاں مریض کوجنسی تعلیم دی۔ خواتین کو دوران حمل جنس سے متعلق کئی مسائل در پیش ہوتے ہیں کبھی ڈاکٹر خواتین کو حالات کے جائزہ کے بعد یہ مشورہ دیتا ہے کہ آپ اپنے شوہر سے وضع حمل تک ہمبستری نہ کریں تو کیا ملعون وسیم رضوی کے مطابق یہ کہا جائے گا کہ ڈاکٹر نے خواتین کو جنسی تعلیم دی؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ لیکن ملعون وسیم رضوی جیسے سیکسی ذہن کا مالک یہ ضرور کہے گا کہ ڈاکٹر نےخواتین کو جنسی تعلیم دی۔
ضرورت پڑنے پر جنسی اعضا اور جنسی تعلق سے گفتگو کی جاتی ہے لیکن اس کو جنسی تعلیم نہیں کہا جائے گا ڈاکٹر محمد احمد نعیمی اپنی کتاب ’’اسلام اور ہندو دھرم کا تقابلی مطالعہ، جلد دوم‘‘ کے صفحہ ۴۰۳ میں منو اسمرتی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ عورتیں شکل و صورت کا لحاظ نہیں کرتی ہیں اور نہ ہم عمر کا خیال رکھتی ہیں، خوبصورت ہوں یا بدصورت مرد کا ساتھ پاتے ہی اس کے ساتھ مباشرت کرتی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر صاحب اسی کتاب کے صفحہ ۵۵۶ پر منواسمرتی کے حوالے سے گاندھرو و واہ کے بارے لکھتے ہیں کہ ’’لڑکی اور لڑکے کے رضا و پسند سے دونوں کا معاہدہ اور اتحاد ہونا گاندھرووواہ کہلاتا ہے یہ جسمانی خواہش کے مقصد کے لئے ہوتا ہے اور یہ ہمبستری کے لئے بہت مفید ہے۔‘‘
ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب کے صفحہ ۶۹۱ پر منو اسمرتی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ
’’جب فریب یا دھوکے سے زنا کیا جاتا ہے تو ساری دولت چھین لی جاتی ہے اور ماتھے پر عورت کی شرمگاہ کے نقشہ کا داغ لگایا جاتا ہے۔‘‘
اسی کتاب کے صفحہ ۷۵۰ پر منو اسمرتی کے حوالہ سے درج ہے کہ
’’استاد یا گرو کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرنے والے کی پیشانی پر عورت کی شرم گاہ کا نقشہ تپے ہوئے لوہے سے بنادے۔‘‘
مذکورہ بالا چند اقتباس ہندو دھرم کی مذہبی کتابوں سے اخذ کیے گئے ہیں ان میں شرم گاہ کا ذکر ہے، زنا کا ذکر ہے، ہمبستری کا ذکر ہے، ماتھے پر عورت کی شرمگاہ کا داغ لگائے جانے کا ذکر ہے، پیشانی پر تپے ہوئے لوہے سے شرمگاہ کا نقشہ بنانے کی بات ہے۔
میرا مقصد کسی مذہب کے رسوم و رواج اور قانون پر تبصرہ کرنا نہیں ہے اور نہ میں یہ کہوں گا کہ یہ سب باتیں جنسی تعلیم پر مشتمل ہیں۔ میں ملعون وسیم رضوی سے سوال کرتا ہوں کہ منو اسمرتی کی باتیں کیا جنسی تعلیم پر منحصر ہیں؟ وہ کیا جواب دے گا، وہ تو جواب دینے کے لائق ہی نہیں ہے۔ ملعون وسیم رضوی نے اپنی کتاب کے صفحہ ۸۵ پر ایک عنوان ’’بیوی کے ساتھ اغلام بازی حلال ہے۔‘‘ لکھا ہے۔ آگے وہ لکھتا ہے ’’جب ابن عمر نے کہا کہ رسول نے اس آیت میں عورت کے ساتھ اس کے مقعد میں ہمبستری کی اجازت دے دی ہے اور اغلام بازی کو حلال بنایا ہے۔‘‘ حوالہ دیا ہے در منثور، جلد۱، صفحہ ۶۳۸
محترم قارئین! سب سے پہلے درمنثور سے حوالہ نقل کرتا ہوں، درمنثور جلد ۱، صفحہ ۶۳۸ میں ہے۔
’’من طریق یزید بن رومان عن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر ان عبداللہ بن عمر کان لایری باسا ان یاتی الرجل المراۃ فی دبرھا‘‘
ترجمہ: ’’یزید بن رومان سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں عبیداللہ بن عبداللہ سے کہ عبداللہ بن عمر کوئی حرج نہیں جانتے تھے کہ مرد عورت کے پیچھے سے آئے۔‘‘
اس عبارت کو بار بار پڑھئے اس میں کہیں رسول اللہ ﷺ کا ذکر ہے یا ابن عمر یہ کہتے ہوں کہ میں اس فعل میں کوئی حرج نہیں دیکھتا ہوں بلکہ یہ عبارت ان کی طرف منسوب کر دی گئی ہے اور یہ عبارت ’’کان لایری باسا ان یاتی الرجل المراۃ فی دبرھا۔‘‘ کو ان کا قول بتایا گیا ہے۔
محترم قارئین! تفصیل میں جانے سے پہلے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو بھی شمار کر لیجئے۔
جھوٹ نمبر ۱:
’’بیوی کے ساتھ اغلام بازی حلال ہے۔‘‘
تبصرہ: حرام حرام سخت حرام ہے اس کے ثبوت میں قرآن کی آیت و احادیث آپ کے سامنے پیش کروں گا۔
جھوٹ نمبر ۲:
’’جب ابن عمر نے کہا۔‘‘
تبصرہ: یہ بھی سراسر جھوٹ ہے ابن عمر نے نہیں کہا بلکہ یزید بن رومان نے ان کے بیٹے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ ابن عمر ایسا کہا کرتے تھے۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ ابن عمر کا قول نہیں ہے۔
جھوٹ نمبر ۳:
’’رسول نے اس آیت میں عورت کے ساتھ اس کے مقعد میں ہمبستری کی اجازت دے دی۔‘‘
تبصرہ: جھوٹ، جھوٹ، سفید جھوٹ، نہ قرآن کی آیت میں اس کی اجازت ہے۔ نہ حدیث میں اس کی اجازت ہے نہ ہی کسی صحابی نے اس کو حلال جانا۔ قرآن اور حدیث آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کا جنازہ دھوم دھام سے نکلے۔