ڈی۔ این۔ اے۔ کیا ہے؟

ڈی۔ این۔ اے۔ کیا ہے؟
اگر غور کیا جائے تو میڈیکل کے اعتبار سے بھی اصل باپ کو تسلیم کیا جاتا ہے انسان کی اصلیت کا پتہ لگانے کے لئے ڈی۔این۔اے۔یعنی جینD.N.A.) (
(Deoxyribonucleic Acid) ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ جین کو مورثی اکائی کہا جاتا ہے جو والدین کا کوئی خاصہ یا کئی خاصات اولاد کو منتقل کرتی ہے، یہ مورثی اکائیاں ڈی۔ این۔ اے۔ کے طویل سالمے پر موجود ہوتی ہیں۔
ہر انسان کا ڈی این اے مختلف ہوتا ہے ہر انسان اپنے ڈی این اے کا ۵۰؍ فیصد حصہ اپنی ماں سے اور ۵۰؍ فیصد اپنے باپ سے پاتا ہے۔ ڈی این اے سے اس کے اصل والدین کا پتہ چلتا ہے۔
قرآن کہتا ہے لے پالک بیٹے کو اس کے اصلی باپ کا نام دو اور ڈی این اے بھی انسان کے اصلی باپ کو بتاتا ہے۔ کسی بھی ڈی این اے ٹیسٹ میں اصلی باپ کو بتائے گا نہ کہ گود لینے والے کا نام۔ یہ حقیقت پر مبنی ہے کہ بچے کی پرورش کوئی بھی کرے اصلی باپ وہی رہے گا جس کے پانی سے وہ پیدا ہوا ہے۔ اس لئے اسلام نے گود لینے والے کو اصلی باپ کا نام دیا ہے اور اسی کی طرف منسوب کرنے کا حکم ہے۔
اب ملعون وسیم رضوی کو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ اصلی باپ کون ہوتا ہے اور گود لینے والے کا حکم کیا ہوتا ہے۔