کس کے سامنے عصمت دری
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۴۵؍ پر شوہر کے سامنے عصمت دری کے عنوان کے تحت ابودائود کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ
’’سعیدالخدری نے کہا: جب رسول نے حنین کے قبیلہ اوطاس پر حملہ کیا اور وہاں کے لوگوں کو شکست دی اور ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا تب رسول نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ تم جنگ میں پکڑی گئیں عورتوں کے ساتھ عصمت دری کرو لیکن کچھ ان عورتوں کے شوہر کے سامنے ایسا کرنے سے ہچکچا رہے تھے پھر رسول نے اس وقت سورہ نساء 24/4کی آیت سنائی جس میں کہا کہ تم پکڑی گئیں عورتوں کے ساتھ جماع نہیں کرسکتے اگر وہ حالت حیض میں ہوں۔‘‘
ملعون وسیم رضوی ایک جھوٹ کا اضافہ کر دیتا ہے اور لکھتا ہے
’’سعید خدری نے کہا کہ گرفتار شدہ عورتوں میں اپنی عمر کی عورتوں کے ساتھ مباشرت کرسکتے ہو۔‘‘
محترم قارئین! سب سے پہلے میں ابودائود کی وہ حدیث پیش کرتا ہوں جس کا حوالہ اس نے دیا ہے اس حدیث میں کتنی باتیں اپنی طرف سے گڑھی ہیں۔ دونوں کا موازنہ کیجئے تو کئی جھوٹی باتیں آپ کے سامنے آجائیں گی۔
ابو دائود جلد دوم، صفحہ ۱۴۸، کتاب النکاح، حدیث نمبر ۳۸۸
’’حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوئہ حنین کے دن ایک فوج اوطاس روانہ کی، ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا، انہوں نے ان سے جنگ کی اور ان پر غالب آئے اور ان کی کچھ عورتیں قید کر لے آئے، بعض صحابہ کرام نے ان کے ساتھ مجامعت سے پرہیز کیا کیوں کہ وہ شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر مشرک تھے، اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) شادی شدہ عورتیں تم پر حرام ہیں باندیوں کے سوا یعنی عدت پوری ہونے کے بعد وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔‘‘
محترم قارئین! اسی سے متعلق ایک اور حدیث صحیح مسلم سے ملاحظہ فرمائیں۔
صحیح مسلم، جلد دوم، صفحہ ۲۴۹، کتاب الرضاع، حدیث نمبر ۳۵۹۴
’’وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَتَخَوَّفُوا فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوئہ اوطاس میں مسلمانوں نے کچھ عورتوں کو گرفتار کر لیا، وہ شادی شدہ تھیں۔ صحابہ کرام ان کے ساتھ مجامعت کرنے سے ڈرے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، شادی شدہ عورتیں تم پر حرام ہیں ماسوا باندیوں کے۔‘‘