مرتد کون ہوا؟
اپنی کتاب کے صفحہ ۱۱۳پر لکھتا ہے کہ
’’ابن سعد کہتا ہے کہ کہانی سننے کے بعد جو لوگ محمد کے ساتھ آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا ان میں بہت سے لوگ مرتد ہوگئے۔‘‘
ملعون وسیم رضوی کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس واقعہ کو سیرت ابن ہشام میں بھی بیان کیا گیا۔ سیرت ابن ہشام جلد اول، صفحہ ۴۴۱پر ہے کہ
’’اس سبب سے بہت سے لوگ جنہوں نے اسلام اختیار کر رکھا تھا مرتد ہوگئے۔‘‘
ملعون وسیم رضوی یہ بتانا چاہتا ہے کہ اسلام لانے کے باوجود اسلام سے پھر گئے، ملعون وسیم رضوی کوبتا دوں یہ کوئی تعجت کی بات نہیں ہے۔ سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے زمانے میں بھی بعض لوگوں نے ارتداد کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں اور اس کے بعد بھی لوگ مرتد ہوئے۔ دور حاضر میں بھی مرتد ہوتے ہیں اس کی جیتی جاگتی مثال ملعون وسیم رضوی ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں جب کہ ایک پَیر قبر میں ہے اس وقت مرتد ہوگیا۔ میں کہوں گا کہ قبر والا محاورہ اس کے لئے اب درست نہیں ہے بلکہ محاورہ یہ کہنا پڑے گا ایک پیر چتا میں ہے، اس وقت مرتد ہوگیا۔ پھر ملعون وسیم رضوی دوسروں کے مرتد ہونے پر تعجب کیوں کرتا ہے اور اس کے پیٹ میں درد کیوں اُٹھتا ہے۔
ملعون وسیم رضوی کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح حق بات اس کی سمجھ میں نہ آئی اسی طرح ہر دور میں لوگ ہوتے ہیں جو حق سے منہ پھیر کر مرتد ہو جاتے ہیں۔