ملعون وسیم رضوی کی خیانت
ملعون وسیم رضوی کی خیانت تو دیکھئے، اس نے ایمان لکھا اور اسی جگہ حکمت بھی ہے اس کو نہیں لکھا۔ وہ کہہ رہا ہے اگر پہلے سے ایمان تھا تو اس میں ایمان داخل کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ ملعون وسیم رضوی کی سوجھ بوجھ انتہائی ناقص ہے۔ کسی چیز کا اضافہ ہونا ماقبل میں اس شئی کی نفی نہیں ہے۔ ایمان و حکمت کو سینے میں ڈالنا، اس سے لازم نہیں آتا ہے کہ اس سے پہلے آپ میں حکمت و ایمان نہیں تھے بلکہ اس سے پہلے بھی آپ میں حکمت و ایمان تھے، اس میں اور اضافہ فرما دیا گیا۔ سینہ چیرنے کا واقعہ حضور ﷺ کو کئی بار پیش آیا ہے۔
سیرت ابن ہشام، جلد اول صفحہ ۱۸۶
’’ابن اسحاق نے کہا ثور بن یزید نے بعض اہل علم سے روایت کی اور میں سمجھتا ہوں یہ روایت خالد بن معدان الکلاعی کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ سے عرض کیا، یا رسول اللہ! اپنے کچھ حالات بیان فرمائیے تو آپ نے فرمایا:
’’واسترضعت فی بنی سعد بن بکر فبیناً انا مع اخ لی خلف بیوتنا نرعی بھما لنا اذ اتانی رجلان علیھما ثیاب بیض بطست من ذھب مملوءۃ ثلجاثم اخذانی فشقا بطنی۔‘‘
ترجمہ: ’’حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: بنی سعد بن بکر کے قبیلے میں دودھ پی کر میں نے پرورش پائی، میں اپنے گھروں کے پیچھے اپنے ایک بھائی کے ساتھ تھا، ہم بکریاں چرا رہے تھے کہ دو شخص سفید کپڑے میں لپٹے ہوئے میرے پاس برف سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لیکر آئے، انہوں نے مجھے پکڑا اور میرا پیٹ چاک کیا۔‘‘
ملعون وسیم رضوی کی کم عقلی پر جتنا ماتم کریں کم ہے۔ اگر ایمان ڈالنا مراد ہوتا تو ایک بار کافی تھا، بار بار سینہ چیر کر کیوں حکمت و ایمان ڈالا جاتا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ایمان و حکمت کی نفی نہیں ہے بلکہ ایمان و حکمت کا اضافہ ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ میں اس گھر کا مالک ہوگیا تو کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے پہلے وہ بے گھر تھا؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ پہلے بھی اس کے پاس گھر تھا۔ ایک گھر اور خریدا اس کا بھی مالک ہوگیا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اس کے گھر میں اضافہ ہوگیا۔ نہ کہ یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ بے گھر تھا۔ لیکن ملعون وسیم رضوی کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کیونکہ اس کی آنکھوں میں مکاری اور فریب کا چشمہ لگا ہوا ہے۔