ملعون وسیم رضوی گھر کا نہ گھاٹ کا
ملعون وسیم رضوی نے اپنی کتاب کے صفحہ ۱۱۴ سے صفحہ ۱۲۶ تک ۱۵؍ صفحات پر مشتمل ’’جنت کی طرف محمد کا سفر‘‘ کے عنوان سے حضور اقدس ﷺ کے واقعہ معراج کو مسخ کرکے لکھا ہے، اس نے اسی بکواس میں پندرہ صفحات کو سیاہ کر دیا ہے۔
اس نے واقعہ معراج پر سیرت ابن اسحاق، بخاری اور مسلم کا حوالہ دیا ہے اپنی کتاب کے صفحہ ۱۱۴ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد کے دعوے کو آزمانے کے لئے ابوبکر نے ان سے یروشلم کے بارے میں بیان کرنے کے لئے کہا، جب انہوں نے بیان کیا تو ابوبکر نے کہا سچ ہے اور میں تصدیق کرتا ہوں کہ تم اللہ کے رسول ہو۔‘‘ اس کے آگے لکھتا ہے کہ ’’یہ ظاہر نہیں ہے کہ ابوبکر نے کبھی یروشلم دیکھا تھا۔‘‘
قارئین! آگاہ ہو جائیں، مکار نے اپنی مکاری دکھاتے ہوئے اصل عبارت حذف کر دیا۔ سیرت ابن اسحاق کے حوالےسے سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ ۴۴۱ پر ہے کہ
’’حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ نے لوگوں سے بیان فرمایا کہ آج رات آپ بیت المقدس تشریف لے گئے تھے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ تو ابوبکر نے عرض کی اے اللہ کے نبی وہاں کے اوصاف مجھ سے بیان فرمایئے، کیوں کہ میں وہاں جا چکا ہوں۔‘‘
حضور اقدس ﷺ نے فرمایا فرفع لی حتی نظرت الیہ وہ میرے سامنے اس طرح پیش کر دیا گیا کہ میں اسے دیکھنے لگا۔ پھر حضور ﷺ حضرت ابوبکر سے اس کے اوصاف بیان فرمانے لگے۔ ابوبکر سنتے اور کہتے آپ نے سچ فرمایا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا انت یا ابابکر الصدیق اے ابوبکر تم صدیق ہو، اس دن سے آپ کا لقب صدیق ہوگیا۔
محترم قارئین! ملعون وسیم رضوی کی مکاری تو دیکھئے جو حوالہ اس نے دیا وہیں سے آگے کی عبارت کو چھوڑ دیا تاکہ واقعہ معراج کو سچ نہ سمجھ لیں۔ ابن اسحاق کے حوالہ سے آپ نے پڑھا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرماتے ہیں، میں وہاں جا چکا ہوں۔ بیت المقدس کے اوصاف سننے کے بعد حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ یا رسول اللہ! آپ نے وہاں کے اوصاف کو صحیح صحیح بتایا۔ یہ حوالہ میں نے وہیں سے دیا ہے جہاں سے ملعون وسیم رضوی نے دیا۔ بس اپنے مذموم مقصد کے لئے اس نے آگے کی عبارت چھوڑ دی۔
ملعون وسیم رضوی صفحہ ۱۲۰ پر لکھتا ہے کہ
’’سچ تو یہ ہے کہ آج مذہب مکمل طور پر سائنس کی بیساکھیوں پر چل رہا ہے، شب و روز روحانیت خدا کے معجزات کی بات کرنے والے مذہبی رہنما سائنس کی وجہ سے مذہب کی اشاعت کرتے ہیں، پھر بھی مذہب کو سائنس سے برتر سمجھتے ہیں۔‘‘
جاہل ملعون وسیم رضوی کو معلوم ہونا چاہئے کہ سائنس کو وجود میں آئے ہوئے بہت کم عرصہ ہوا، یہ دو چار سو سال کی بات ہے جبکہ اس دھرتی پر مذاہب ہزاروں سال سے ہیں، اس کے مبلغین نے ہزاروں سال اس کی تبلیغ کی ہے، سائنس کے وجود سے پہلے ہر مذہب کے مبلغین چاہے وہ ہندو ہوں، مسلمان ہوں، عیسائی ہوں، یا یہودی اپنے مذہب کی اشاعت کرتے رہے ہیں۔ اس وقت تک تو سائنس کا وجود بھی نہیں تھا، جب سائنس کا وجود ہی نہیں تھا تب سائنس کی کون سی بیساکھی پر مذہب چل رہا تھا۔ ہاں یہ ضرور کہا جائے گا کہ ملعون وسیم رضوی نے اپنی جہالت کی بیساکھی پر چل کر یہ سب باتیں لکھی ہیں۔
ملعون وسیم رضوی سے سوال ہے کہ کیا عیسیٰ مسیح کے دور میں سائنس تھی؟ کیا حضور اقدس ﷺ کے دور میں سائنس تھی؟ کیا رام کے زمانے میں سائنس تھی؟ کیا اشوک کے زمانے میں تھی؟ نہیں۔ لیکن ان سبھوں کے دور میں مذہب تھا۔ ملعون وسیم رضوی تو تاریخ سے نابلد ہے، وہ کیا بتا پائے گا۔ اگر اسے معلوم ہوتا تو وہ ایسی لایعنی باتیں نہ کرتا۔