ملعون وسیم رضوی کی کوکٹیل کہانی
محترم قارئین! ملعون وسیم رضوی کی اور ایک کوکٹیل کہانی سنئے اور سردھنئے اور ملعون وسیم رضوی کی عقل پر ماتم کیجئے۔ اور اس کی جہالت کو بھی جانئے۔ سب سے پہلے اس کی من گھڑت کہانی سنئے پھر میں اصل واقعہ احادیث اور تاریخ کے حوالہ سے پیش کروں گا پھر اس کوکٹیل کہانی کا پوسٹ مارٹم کروں گا۔
وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۷۷ پر لکھتا ہے،
’’چچا زاد بہن سے صحبت۔‘‘
کے عنوان کے تحت وہ لکھتا ہے محمد صاحب کے چچا ابوطالب کی بڑی لڑکی کا نام ام ہانی بنت ابوطالب تھا جسے لوگ فکیت اور ہندہ بھی کہتے تھے۔ یہ ۶۳۰ء یعنی سن ہجری ۸ کی بات ہے۔ محمد صاحب طائف کی لڑائی میں شکست کھا کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ جان بچانے کے لئے کعبہ میں چھپ گئے لیکن محمد صاحب خاموشی سے سب کی نظریں چرا کر ام ہانی کے گھر میں داخل ہوگئے۔ لوگوں
نے اسے بہت تلاش کیا اور وہ آخر ام ہانی کے گھر میں پکڑے گئے۔ اس بات کو چھپانے کے لئے محمد صاحب نے ایک کہانی بنائی اور لوگوں سے کہا کہ میں یروشلم اور جنت کی سیر کرنے گیا تھا، مجھے اللہ نے بلایا تھا، اس وقت ان کی پہلی زوجہ خدیجہ انتقال کرچکی تھی۔ حقیقت میں محمد صاحب ام ہانی کے ساتھ زنا کرنے گئے تھے۔ انہوں نے قرآن کی سورہ احزاب کی آیت نمبر 50/33سنا کر ہمبستری کے لئے رضا مند کر لیا۔ یہ بات حدیث کی کتاب ترمذی میں موجود ہے جسے مستند سمجھا جاتا ہے پوری حدیث اس طرح ہے ’’ام ہانی نے بتایا اس رات رسول نے مجھ سے اپنے ساتھ شادی کرنے کی پیش کش کی لیکن میں نے اس کے لئے ان سے معافی مانگی تب انہوں نے کہا کہ ابھی ابھی اللہ کی طرف سے مجھے پیغام ملا ہے، اے نبی! ہم نے تمہارے لئے وہ بیویاں جائز کردی ہیں جن کے مہر تم نے دے دیئے ہیں اور باندیاں جو جنگ سے حاصل ہوتی ہیں اور چچازاد بہنیں، پھوپھی زاد بہنیں، ماموں زاد بہنیں، خالہ زاد بہنیں اور جس عورت نے تمہارے ساتھ ہجرت کی اور وہ ایمان والی عورت جو خود کو تمہارے لئے وقف کرتی ہے، یہ سن کر میں راضی ہوگئی اور مسلمان ہوگئی۔‘‘
یہ ہے ملعون وسیم رضوی کی بکواس بھری کوکٹیل کہانی جسے آپ نے ملاحظہ کیا۔
اس کہانی میں ملعون وسیم رضوی نے چار واقعات کو ایک ساتھ جوڑ کر کوکٹیل کہانی بنا دیا جو الگ الگ سنہ میں واقع ہوئے۔
(ا) ام ہانی کی شادی کی پیشکش کا واقعہ۔
(۲)یروشلم اور جنت کی سیر یعنی معراج کا واقعہ۔
(۳) طائف کے محاصرہ کا واقعہ۔
(۴) ام ہانی کے اسلام لانے کا واقعہ۔
یہ چاروں واقعات الگ الگ سنہ میں ۹؍ سال کے اندر واقع ہوئے۔ ملعون وسیم رضوی نے ۹؍سال کے واقعات کو ایک ہی رات میں جوڑ دیا۔ حضرت ام ہانی فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائیں جو ۸ ھ کا واقعہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو معراج ہجرت سے ۱۸؍ ماہ قبل ہوئی، آٹھ ہجری میں فتح مکہ ہوا، اس کے بعد آپ غزوئہ حنین کے لئے روانہ ہوئے، اس کے بعد طائف کا محاصرہ کیا، اس کے بعد مکہ تشریف لائے۔ طائف کا محاصرہ اور واقعہ معراج کے درمیان ۹؍سال کا وقفہ ہے، اس کو ایک ہی رات میں جوڑ دیا گیا۔ ام ہانی سے شادی کی پیشکش اور معراج کے واقعہ کے درمیان ۹؍ سال کا فرق ہے اس کو ایک ہی رات میں جوڑ دیا گیا۔ جو واقعات ۹؍ سال میں ہوئے ان کو ایک ہی رات میں بیان کرکے ایک کہانی بنائی تاکہ حضور ﷺ کی مقدس ذات پر زنا کا الزام عائد کر سکے لیکن اس کی کہانی کے پوسٹ مارٹم سے قارئین پر واضح ہو جائے گا کہ ملعون وسیم رضوی معلم الکاذبین یعنی جھوٹوں کا استاذ ہے اور اس کی یہ کتاب مجموعۃ الاکاذیب ہے۔ اب میں تاریخ اور احادیث کے حوالے پیش کرتا ہوں، سب سے پہلے ترمذی کی حدیث بیان کرتا ہوں۔
ترمذی جلد دوم، صفحہ ۴۸۸، ابو اب تفسیر القرآن، حدیث نمبر ۱۱۴۱
’’حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ فَعَذَرَنِي ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی إِنَّا أَحْلَلْنَا لَکَ أَزْوَاجَکَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَکَتْ يَمِينُکَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْکَ وَبَنَاتِ عَمِّکَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِکَ وَبَنَاتِ خَالِکَ وَبَنَاتِ خَالَاتِکَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَکَ ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے پیغام نکاح دیا، میں نے عذر پیش کیا تو آپ نے میری معذرت قبول فرمائی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) اے پیغمبر! ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کے تم نے مہر دے دیئے ہیں حلال کر دی ہیں اور تمہاری باندیاں جوخدا نے تم کو عطا کی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں، اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں، اور تمہارے ماموں کی بیٹیاں، اور تمہاری خالائوں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔‘‘
حضرت ام ہانی فرماتی ہیںچوں کہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی اس لئے میں آپ کے لئے حلال نہیں، میں طلقا میں سے ہوں۔ (یعنی فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والوں میں سے)
محترم قارئین! ام ہانی کی شادی کے تعلق سے ابن سعد نے اپنی طبقات میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔
طبقات ابن سعد جلد ۸، صفحہ ۲۱۱، پر لکھتے ہیں
’’خبر دی ہشام بن محمد بن سائب کلبی نے، انہیں خبر دی ابو صالح نے، انہوں نےکہا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زمانہ جاہلیت میں ابوطالب سے ان کی بیٹی ام ہانی پر پیغام ڈالا اور ہبیرہ بن ابی وہب نے بھی پیغام ڈالا پھر ان سے ہبیرہ نے نکاح کر لیا، آپ نے فرمایا چچا جان! آپ نے ام ہانی سے ہبیرہ کا نکاح کر دیا اور مجھے محروم فرما دیا۔ ابوطالب نے جواب دیا، بھتیجے ہم نے ان سے رشتہ کر دیا، محسن محسن کے ساتھ برابر کا احسان کرتا ہے۔ پھر ام ہانی مشرف بہ اسلام ہوگئیں اور نکاح ٹوٹ گیا پھر حضور اقدس ﷺ نے نکاح کا پیغام دیا تو حضرت ام ہانی بولیں: میں بچوں والی عورت ہوں اور ان سے آپ کو تکلیف ہوگی اور یہ مجھے گوارا نہیں۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: قریش کی عورتیں اپنے کم سن بچوں کو بہت پیار کرتی ہیں اور اپنے شوہر کے مال کی خوب حفاظت کرتی ہیں۔
محترم قارئین! آپ حضرت ام ہانی سے شادی کی پیش کش کو حدیث اور تاریخ کے حوالے سے اچھی طرح جان گئے۔ اب آئیے واقعہ معراج کو جانتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوا؟
طبقات ابن سعد، جلد اول، صفحہ ۲۸۱ پر ہے
’’ابوبکر بن عبداللہ بن ابی سبرہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے رب سے درخواست کیا کرتے تھے کہ وہ آپ کو جنت اور دوزخ دکھائے تو ہجرت سے اٹھارہ مہینے پہلے آپ کو معراج ہوئی۔‘‘
حضور اقدس ﷺ نے مکہ کو ۸ ھ میں فتح کیا۔
صحیح بخاری، جلد دوم صفحہ ۶۲۵، حدیث نمبر ۱۴۱۶ کتاب المغازی
’’حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنْ الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلَافٍ وَذَلِکَ عَلَی رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ فَسَارَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَی مَکَّةَ ‘‘
ترجمہ: ’’عبیداللہ بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے مہینے میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ دس ہزار مسلمان تھے۔ یہ سفر اس وقت ہوا جب حضور ﷺ کو مدینہ تشریف لائے ہوئے ساڑھے آٹھ سال ہو چکے تھے۔ تو آپ مسلمانوں کو ساتھ لے کر مکہ کی جانب چل پڑے۔‘‘
محترم قارئین! آپ نے ام ہانی کی شادی کی پیش کش کے بارے میں جان لیا، آپ نے واقعہ معراج کس سنہ میں ہوا یہ بھی جان لیا۔ آپ نے فتح مکہ کے سنہ کے بارے میں جان لیا۔ اب آئیے طائف کے بارے جانتے ہیں۔
صحیح بخاری جلد دوم، صفحہ ۶۴۳، حدیث نمبر ۱۴۵۷ کتاب المغازی
’’حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوا نَذْهَبُ وَلَا نَفْتَحُهُ ۔‘‘
ترجمہ: ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا اور فائدہ کچھ حاصل نہ ہوا تو فرمایا ان شاء اللہ تعالیٰ ہم کل واپس لوٹ جائیں گے، لوگوں پر یہ بات گراں گزری اور کہنے لگے کہ بغیر فتح کئے چلے جائیں گے۔‘‘
حضور اقدس ﷺ طائف کا محاصرہ اٹھانے کے بعد مقام جعرانہ میں تشریف لائے۔ اس کو مورخ ابن اسحاق نے وضاحت کے ساتھ پیش کیا، وہ صفحہ ۶۸۳ پر لکھتے ہیں کہ سفر طائف میں آپ کی دو بیویاں ساتھ تھیں، ان میں سے ایک ام المومنین ام سلمہ تھیں۔ دونوں کے لئے الگ الگ خیمہ لگایا گیا تھا، ابن اسحاق آگے لکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے طائف سے روانہ ہوکر مکہ آنے کی بجائے راستہ میں مقام جعرانہ میں قیام فرمایا۔
سیرت ابن ہشام، جلد دوم صفحہ ۶۰۳، پر ابن ہشام ابن اسحاق کے حوالہ سے لکھتے ہیں،
’’نبی کریم ﷺ جعرانہ سے نکل کر عمرہ کے لئے تشریف لے گئے، آپ کا عمرہ ذی قعدہ میں ہوا تھا۔‘‘
محترم قارئین! اب پوری تصویر آپ کے سامنے صاف ہوگئی۔ اب آپ کو معلوم ہوگیا کہ ملعون وسیم رضوی کی کتاب مجموعۃ الاکاذیب ہے یعنی جھوٹ کی گٹھری ہے اور ملعون وسیم رضوی معلم الکاذبین یعنی جھوٹوں کا استاذ ہے۔
محترم قارئین! اب میں ملعون وسیم رضوی کی کوکٹیل کہانی کا پوسٹ مارٹم آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے اس کہانی کی جھوٹی باتوں کو شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر ۱:
’’محمد صاحب طائف کی لڑائی میں شکست کھا گئے۔‘‘
تبصرہ: طائف میں لڑائی ہوئی ہی نہیں بلکہ قلعہ کا محاصرہ کیا گیا تھا جسے اللہ کے رسول نے اٹھالیا، جیسا کہ آپ نے اوپر پڑھا۔
جھوٹ نمبر ۲:
’’اپنے ساتھیوں کے ساتھ جان بچانے کے لئے کعبہ میں چھپ گئے۔‘‘
تبصرہ: طائف کے واقعہ سے پہلے ۸ ھ میں مکہ فتح ہوگیا، آپ فاتح مکہ تھے یعنی مکہ کےبادشاہ تھے، پھر آپ کعبہ میں کیوں چھپیں گے!!
جھوٹ نمبر۳:
’’محمد صاحب نظریں چرا کر ام ہانی کے گھر میں داخل ہوگئے۔‘‘
تبصرہ: طائف کا واقعہ ۸ ھ میں ہوا، آپ حالت احرام میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی دو بیویاں تھیں، آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نظریں چرا کر کیسے ام ہانی کے گھر میں داخل ہوئے؟
جھوٹ نمبر ۴:
’’لوگوں سے کہا میں یروشلم اور جنت کی سیر کرنے گیا تھا۔‘‘
تبصرہ: طائف کا واقعہ ۸ ھ کو ہوا ،جنت کی سیر یعنی واقعہ معراج ہجرت سے ۱۸؍ مہینےپہلے کا ہے۔ دونوںواقعہ میں ۹؍سال کا فرق ہے۔ دونوں ایک ساتھ کیسے ہوسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ من گھڑت کہانی تیار کی گئی ہے لیکن تاریخ اور احادیث کے حوالوں سے اس کہانی کا اور کہانی گڑھنے والے کا جنازہ نکل گیا۔ یہ اتنے پختہ ثبوت ہیں کہ اس کا جواب دینے میں ملعون وسیم رضوی کی پینٹ اور دھوتی دونوں گیلی ہو جائے گی مگر وہ جواب نہیں دے سکے گا۔