چشمہ کے پیچھے سے
ملعون وسیم رضوی جھوٹ کا ایک اور پٹاخہ پھوڑتا ہے اور اس کا یہ جھوٹ ہمالیہ پربت سے بھی بڑا ہے۔ قارئین پہلےاس کی بکواس، من گھڑت اور جھوٹی عبارت کو ملاحظہ فرمائیں پھر میں تاریخ کے حوالے سے صحیح واقعہ پیش کرتا ہوں اس کے بعد ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو شمار کراتا ہوں۔
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۴۳ پر ’’حنین کی عصمت دری کا واقعہ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔
’’طائف اور مکہ کے درمیان ایک وادی تھی جس میں ایک بدو قبیلہ ’’ہوازن‘‘ رہتا تھا جو قریش کا ایک حصہ تھا۔ اس قبیلے کی عورتیں محنتی ہونے کی وجہ سے صحت مند تھیں اور ان عورتوں کی چھاتیاں اُبھری ہوئی تھیں۔ محمد نے ان پر حملہ کرنے کے لئے بہانہ نکالا کہ یہ کافر ہیں لیکن محمد اور ان کے عیاش ساتھیوں کی نظر ہوازن قبیلے کی عورتوں پر تھی۔ اس لئے رات کو ہی حملہ کر دیا۔ چونکہ یہ واقعہ حنین نامی تنگ وادی میں پیش آیا جس سے نکلنا مشکل تھا اس لئے بدو لوگ شکست کھا گئے۔ مورخ ابن اسحاق کے مطابق حنین کی جنگ کو اسلام میں بہت اہم مقام حاصل ہے کیوں کہ اس جنگ کے بعد ہی مسلمانوں کو جنگ میں یا کسی بھی جگہ سے پکڑی گئیں خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کی اجازت مل گئی حالانکہ مسلمان اس لڑائی کو جنگ کہتے ہیں لیکن اسے جنگ کہنا درست نہیں ہوگا کیوں کہ ایک طرف محمد کے بارہ ہزار تربیت یافتہ مسلح ڈاکو تھے اور دوسری طرف چھ ہزار عام بدو تھے جس میں عورتیں بوڑھے بیمار اور بچے بھی تھے۔ یہ واقعہ اسلامی مہینے شوال کی ۱۰؍ تاریخ ۸ ھ یعنی ۶۳۰ء کو پیش آیا۔ ابن اسحاق کے مطابق اس جنگ میں کوئی مال و زر حاصل نہ ہوا لیکن چھ ہزار عورتیں پکڑی گئی تھیں۔‘‘
محترم قارئین! یہ تھا ملعون وسیم رضوی کا بکواس بھرا جھوٹ پر مبنی قصہ جو آپ نے ملاحظہ کیا ایسی جھوٹی باتیں سن کر انصاف پسند انسان اس پر سو بار لعنت بھیجے گا۔
سب سے پہلے میں مؤرخ ابن اسحاق کے حوالے سے حنین کا پورا واقعہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ جھوٹ کا بادل چھٹ جائے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور ملعون وسیم رضوی کی مکاری واضح ہو جائے۔ اس کے بعد ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو شمار کرائوں گا۔ مؤرخ ابن اسحاق نے غزوئہ حنین کو تفصیل سے لکھا ہے۔ غزوہ حنین کے عنوان سے صفحہ ۶۷۰ پر لکھتے ہیں۔
’’فتح مکہ کے بعد قریش مکہ نبی کریم ﷺ کے فرماں بردار ہوگئے۔ عرب کا مشہور بڑا اور منظم قبیلہ ہوازن جو اب تک تابع اسلام نہیں ہوا تھا یہ قبیلہ اپنی مردانگی اور بہادری کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔ اس کا سردار مالک بن عوف نصری تھا۔ جب اس کو خبر لگی کہ مکہ اور ا طراف مکہ حضور ﷺ کا فرماں بردار ہو گیا ہے تو سوچنےلگا کہ محمد (ﷺ) کے حملہ کرنے سے پہلے ہمیں اس پر حملہ کر دینا چاہئے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو جمع کیا اور ان کے علاوہ ملک یمن کے ملحقہ علاقوں کے ان لوگوں کو جمع کیا جو قبیلہ ہوازن کے حلیف اور معاہد تھے۔ ان سے مدد کی درخواست کرکے ساتھ ملا لیا۔ اس طرح اس نے ایک لشکر جرار تیار کیا جن کے لئے ساز و سامان اکٹھا کیا اور نبی علیہ السلام کے ساتھ جنگ کی تیاری کی۔ اس موقع پر اس نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے کہا وہ اپنے ساتھ ساتھ مال و منال لے لیں عورتوں اور بچوں کو ساتھ رکھیں۔
اس لشکر کے ساتھ ایک اور قبیلہ کا سردار درید بن صمہ بھی تھا حالاں کہ وہ کافی ضعیف اور کمزور ہو چکا تھا لیکن وہ جنگی امور کا ماہر تھا، بہت سے معرکے دیکھے تھے، اس کے لئے اونٹ پر محافہ رکھا گیا اور اس کے تجربات سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اس کو ساتھ لے لیا گیا۔ درید کو یہ معلوم نہ تھا کہ مالک بن عوف نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں اور بچوں اور مال کو ساتھ رکھیں۔ یہ لشکر سفر کرتا ہوا ’’اوطاس‘‘ پہنچا اور یہاں قیام پذیر ہوا تو درید بن صمہ نے معلوم کیا کہ یہ کونسی جگہ ہے۔ جب اس کو بتایا گیا کہ یہ وادی اوطاس ہے تو درید نے کہا بہت اچھی جگہ ہے جہاں کی زمین نہ تو بہت سخت ہے جہاں گھوڑوں کو دوڑنے میں دشواری ہو اور نہ اتنی نرم کہ سواریوں کے پیر دھنسنے لگیں۔ بعد میں جب درید بن صمہ نے لشکر میں بکریوں، دوسرے جانوروں عورتوں اور بچوں کی آوازیں سنیں تو ان سے کہا کہ یہ مال عورتیں اور بچے کیوں ساتھ ہیں؟ اور کون ساتھ لایا ہے؟ تو درید بن صمہ کو بتایا گیا کہ مالک بن عوف نے قبیلہ ہوازن کے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ساز و سامان کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو بھی ساتھ لیا جائے۔ یہ سن کر درید نے کہا مالک بن عوف کہاں ہے؟ اس کو بلائو۔ چوں کہ درید کو معاشرہ میں عزت و احترام کے ساتھ دیکھا جاتا تھا اس کی رائے کو احترام کے ساتھ قبول کیا جاتا تھا اس لئے اس کی بات کو اہمیت دی گئی اور لوگوں نے جاکر مالک بن عوف سے کہا کہ درید نے تمہیں بلایا ہے۔ چنانچہ مالک بن عوف نےدرید سے آکر کہا آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے؟ تو درید نے کہا اے مالک! تجھے یہ کیا سوجھی تھی کہ تو عورتوں بچوں اور جانوروں کے ریوڑ تک ساتھ لے آیا ہے۔ عورتوں اور بچوں کو مصیبت میں ڈالا۔ مالک بن عوف نے کہا ایسا میں نے اس لئے کیا ہے تاکہ جنگ کے دوران میرے قبیلے ہوازن کے لوگ اپنی عورتوں بچوں مال و اسباب کی حفاظت کی خاطر دل جمعی اور بہادری سے لڑیں۔ اور لڑائی کے درمیان اپنی پیٹھ نہ دکھائیں اور نہ منہ پھیر کر بھاگیں۔ یہ سن کر درید بن صمہ نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا کہ تو اس لائق ہے کہ جانوروں کا ریوڑ چرائے نہ کہ لوگوں کی سرداری کرے۔ مالک بن عوف نے کہا کیوں؟ تو درید نے کہا اس لئے کہ جس کام کے لئے ہم نکلے ہیں یہ دو حال سے خالی نہیں اور ان دونوں حالت میں نتیجہ یہ نکلے گا، اگر فتح ہوگی تو مردوں کی تلوار کی وجہ سے ہوگی نہ کہ یہ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے۔ اگر شکست ہوئی تو اس موقع پر مرد تو بھاگ کر اپنی جانیں بچالیں گے اور تیرا یہ ساز و سامان دشمن کے ہاتھ لگے گا، عورتیں اور بچے ان کے رحم و کرم پر ہوں گے، اس سے زیادہ ذلت و رسوائی کیا ہوگی۔
مالک بن عوف نہایت ہی مغرور اور متکبر تھا اور اپنی بہادری پر نازاں تھا وہ لوگوں سے کہنے لگا کہ درید بن صمہ نے خوفزدہ ہوکر یہ بات کہی ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ قبیلہ ہوازن کے لوگوں کو مالک بن عوف کی بات غلط معلوم ہوئی اور وہ درید کے مشورہ پر عمل کرنے کے قائل ہوگئے۔ بچوں اور عورتوں کو ساتھ لانے کی غلطی کا اعتراف کرنے لگے۔ مالک بن عوف نے جب یہ محسوس کیا کہ ہوازن کے لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور وہ مال و اسباب عورتوں اور بچوں کو واپس کرنے کے بارے سوچ رہے ہیں تو اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو بلایا تلوار ہاتھ میں لے کر کہا اگر تم میری اطاعت کرو اور میرے کہنے پر عمل کرو تو ٹھیک ہے ورنہ میں اپنی تلوار اپنے سینے پر مار لوں گا اور خود کو ہلاک کر لوں گا۔ جب ہوازن کے لوگوں نے یہ بات سنی تو وہ مرعوب ہوکر کہنے لگے جو تمہارا حکم ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔ جب وہاں سے روانہ ہوئے تو لشکر کے ساتھ مال و منال عورتیں اور بچے بھی تھے روانگی کے وقت مالک بن عوف نے لشکر سے کہا، جب تم محمد (ﷺ) کے لشکر کو دیکھو تو تلواریں نیام سے نکال کر ان کے پرچم کو پھاڑ دینا اور اسلامی لشکر پر اچانک حملہ کردینا۔
جب نبی کریم ﷺ کو خبر ملی کہ مالک بن عوف ہوازن کے ساتھ جنگ کے ارادے سے نکلا ہے تو آپ نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی سے فرمایا کہ وہ قبیلہ ہوازن کے لشکر میں جاکر حالات کا جائزہ لیں، ان کے ارادوں اور تعداد کا اندازہ لگائیں اور ساری باتیں آکر بتائیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن ابی حدرد نے ہوازن کے لشکر میں جا کر تمام حالات کا جائزہ لیا اور نبی کریم ﷺ سے آکر ان کو بیان کیا۔
فتح مکہ کے موقع پر اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار تھی اور دوہزار کا اضافہ فتح مکہ کے بعد ہوا۔ اب اسلامی لشکروں کی تعداد بارہ ہزار تھی لہٰذا اس بارہ ہزار لشکر کے ساتھ آپ مکہ مکرمہ سے ہوازن کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے۔ مکہ مکرمہ میں انتظامی امور کی نگرانی کے لئے حضرت عتاب بن اسید کو مقرر فرمایا۔
صفوان بن امیہ مکہ کے ساہو کاروں میں سے تھا۔ وہ مختلف چیزیں لوگوں کو ادھار دیا کرتا تھا۔ اس کے پاس بہت سامان جنگ تھا، زرہوں کا ذخیرہ تھا، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی کو اس کے پاس بھیجا تاکہ اس سے چند زرہیں لے آ سکیں۔ چونکہ صفوان اب تک مسلمان نہیں ہوا تھا اس نے سوچا کہ یہ زرہیں واپس نہ ہوں گی۔ اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آکر عرض کیا، یا محمد! (ﷺ) یہ زرہیں ادھار لی جا رہی ہیں؟ یا زبردستی لی جا رہی ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بطور ادھار لی جا رہی ہیں، ان کی واپسی کی ذمہ داری ہماری ہے، اگر وہ ضائع ہوئیں تو ہم اس کا تاوان ادا کریں گے۔
جب نبی کریم ﷺ روانہ ہوئے تو رات دن سفر کرتے ہوئے وادی حنین کے قریب پہنچے، وہ یہاں سے بھی آگے گزرنا چاہتے تھے لیکن واقعہ اس طرح پیش آیا۔
وادی حنین میں محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ ہوازن کے لوگوں کو معلوم تھا کہ اسلامی لشکر کی گزرگاہ یہ وادی ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے فوجیوں کو یہاں چھپا دیا۔ نہ تو نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس نکتہ کی جانب توجہ فرمائی نہ اسلامی لشکروں کو اس کا احساس ہوا، یہ نہایت اطمینان سے وادی کی جانب چلتے رہے۔
صبح کے قریب جب وادی میں اس جگہ پہنچے جہاں یہ لوگ چھپے بیٹھے تھے تویہ اپنی جگہ سے باہر نکلے اور اسلامی لشکر پر حملہ آور ہوئے۔ اسلامی لشکر اس ناگہانی حملہ سے گھبرا گئے اور اپنی حفاظت کی خاطر جدھر موقع ملا بھاگ گئے جب نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ منظر دیکھا تو دایاں ہاتھ بلند کرکے لوگوں کو متوجہ کیا اور فرمایا لوگو! میرے پاس آئو میں اللہ کا رسول اور محمد بن عبداللہ ہوں لیکن ان بدحواس لشکریوں نے ایک نہ سنی۔ اس موقع پر انصار اور مہاجرین میں سے چند جاں نثاروں نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا اس میں حضرت ابوبکر، عمر، علی، عباس، ابوسفیان بن حارث، ربیعہ بن حارث، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہم شامل ہیں۔ اسلامی لشکر جو بارہ ہزار افراد پر مشتمل تھا سب افرا تفری کا شکار ہوگیا اور یہ اسلامی لشکر جب شکست سے دو چار ہوا تو نو مسلم سردران قریش جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کے لئے آئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ابھی اسلام قبول نہیں کئے تھے انہوں نے مسلمانوں پر لعن طعن شروع کر دیا۔ اس موقع پر ابوسفیان بن حرب نے کہا ’’یہ وہ موقع ہے کہ محمد (ﷺ) کے ساتھی اس شکست کے بعد سمندر میں بھی پناہ نہیں پائیں گے۔
ہوازن کے لوگ محفوظ پناہ گاہ میں تھے اور اسلامی لشکر بکھر چکا تھا اور مسلمان تقریباً شکست کھا چکے تھے۔
جنگ حنین کے دن نبی کریم ﷺ سبز گھوڑے پر سوار تھے جب نبی ﷺ نے مسلمان فوجیوں کو بلایا افراتفری کے سبب کسی نے آپ کی آواز نہ سنی اور واپس نہ ہوئے تو آپ نے حضرت عباس سے فرمایا: آپ بلند آواز ہیں اس لئے آپ اصحاب سمرہ اور انصار کو پکاریں چنانچہ جب حضرت عباس نے اصحاب سمرہ اور انصار کو پکارا تو وہ لبیک لبیک کہتے ہوئے اس آواز کی طرف لپکے۔ اس طرح انصار کے سو افراد نبی ﷺ کے گرد جمع ہوگئے اور یہ سوجاں باز ان جاں نثاروں میں شامل ہوگئے جو پہلے سے نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھے۔ اب انصار مدینہ میدان جنگ میں کود پڑے۔ نبی ﷺ نے ایک ٹیلے سے میدان جنگ کا حال دیکھ کر فرمایا اب جنگ شدت میں ہے۔
قبیلہ ہوازن کے کافروں میں ایک شخص بہادر اور بہت مشہور تھا، اس کے ہاتھ میں سیاہ پرچم تھا، جس میں وہ نیزہ چھپائے ہوئے تھا،یہ شخص کافروں کے لشکر کے آگے آگے تھا، جو مسلمان آگے بڑھتا اس کو نیزے سے روک دیتا، مسلمانوں کو اس نے بہت نقصان پہنچایا۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کی جنگی حکمت عملی دیکھی تو خود آگے بڑھے تلوار سے حملہ کرکے اس کو گھوڑے سے گرایا اور قتل کر دیا۔ جب یہ کافر قتل ہوا تو مسلمانوں نے اجتماعی حملہ کرکے کافروں کے قدم اکھاڑ دیئے، جب کافر مقابلہ سے بھاگ گئے تو مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا بعض مارے گئے۔ بعض قید کئے گئے ابھی تک تمام مفرور قتل اور قیدی نہ بنائے گئے تھے۔ پھر بھی ایک ہزار مردوں کو مسلمانوں نے قیدی بنا لیا اور انہیں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا۔
جب کافر شکست سے دوچار ہوئے تو ہر قبیلہ کے لوگ جدھر منہ اُٹھا بھاگنے لگے۔ مالک بن عوف نے بھاگتے ہوئے طائف کا رخ کیا، نبی کریم ﷺ نے ان کے تعاقب میں دستہ روانہ کیا۔
جن دستوں کو نبی کریم ﷺ نے اطراف میں بھاگے ہوئے لشکروں کے تعاقب میں روانہ کیا تھا جب ان دستوں کی واپسی ہوئی تو ان کےساتھ قیدی اور مال غنیمت تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سب کو مقام جعرانہ میں روکا، ان کی نگرانی کی ذمہ داری حضرت مسعود بن عمر و غفاری کے سپرد فرمائی اور خود مکہ واپس تشریف لے گئے۔
غزوئہ حنین میں چار مسلمان شہید ہوئے، غزوئہ حنین کی واپسی میں نبی کریم ﷺ نے ایک عورت کی لاش کو دیکھ کر کہا کہ اس کو کس نے قتل کیا ہے؟ تو آپ کو بتایا گیا کہ حضرت خالد بن ولید نے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: خالد سے کہو! اللہ کے رسول کا حکم ہے کہ کافروں کی عورتوں، بچوں اور معذوروں کو قتل نہ کیا جائے۔
محترم قارئین! آپ نے مورخ ابن اسحاق کی زبانی ان کی سیرت ابن اسحاق کے حوالے سے غزوئہ حنین کا واقعہ سماعت فرمایا۔ اس کو بار بار پڑھئے اور غور کیجئے کہ ملعون وسیم رضوی نے مورخ ابن اسحاق پر کتنی بہتان تراشی کی ہے اور جو بات انہوں نے نہیں کہی اس کو بھی اپنی طرف سے ان کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اس لئےغزوئہ حنین کا پورا واقعہ بیان کر دیا تاکہ ملعون وسیم رضوی کی مکاری اور جھوٹ آپ پر عیاں ہو جائے۔
اب میں ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو مورخ ابن اسحاق کے حوالہ سے شمار کراتا ہوں ملاحظہ فرمائیں۔
جھوٹ نمبر۱:
’’ایک بدوقبیلہ ہوازن رہتا تھا۔ ‘‘
یہ قبیلہ بدو نہیں بلکہ بہت بہادر تھا جیسا کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے۔
جھوٹ نمبر ۲:
’’قبیلے کی عورتیں محنتی ہونے کی وجہ سے صحت مند بھی تھیں۔‘‘
جھوٹ نمبر ۳:
’’محمد نے ان پر حملہ کرنے کے لئے بہانہ نکالا کہ یہ کافر ہیں۔‘‘
جھوٹ نمبر۴:
’’محمد اور ان کے عیاش ساتھیوں کی نظر ہوازن قبیلے کی عورتوں پر تھی۔‘‘
جھوٹ نمبر ۵:
’’اس لئے رات کو ہی حملہ کر دیا۔‘‘
جھوٹ نمبر ۶:
’’اس لئے بدو شکست کھا گئے۔‘‘
جھوٹ نمبر ۷:
’’اس جنگ کے بعد ہی مسلمانوں کو جنگ میں یا کسی بھی جگہ پکڑی گئی خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کی اجازت مل گئی۔‘‘
جھوٹ نمبر ۸:
’’دوسری طرف چھ ہزار عام بدو تھے جس میں عورتیں بیمار اور بچے تھے۔‘‘
جھوٹ نمبر ۹:
’’ابن اسحاق کے مطابق اس جنگ میں مال و زر حاصل نہ ہوا۔‘‘
جھوٹ نمبر ۱۰:
’’محمد کے بارہ ہزار تربیت یافتہ مسلح ڈاکو تھے۔‘‘
محترم قارئین! اب آئیے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کا تاریخ ابن اسحاق کے حوالہ سے پوسٹ مارٹم کرتا ہوں کیوں کہ اس نے مورخ ابن اسحاق کا حوالہ دیاہے۔
جھوٹ نمبر ۱:
’’ایک بدو قبیلہ ہوازن رہتا تھا۔ ‘‘
بدو کہتے ہیں خانہ بدوش کو جو جنگ میں ماہر نہیں ہوتا ہے، اس میں جنگجو بہادر افراد نہیں ہوتے ہیں۔ بدو کہہ کر ملعون وسیم رضوی ان کو بھولے بھالے ثابت کرنا چاہتا ہے۔ جب کہ درید بن صمہ جنگی امور کا ماہر تھا اور اس قبیلے کا سردار مالک بن عوف نہایت ہی مغرور و متکبر اور بہادر تھا۔‘‘
جھوٹ نمبر ۲:
’’قبیلے کی عورتیں محنتی ہونے کی وجہ سے صحت مند تھیں۔‘‘
مؤرخ ابن اسحاق نے ہوازن قبیلے کی عورتوں کے تعلق سے کچھ نہیں لکھا ہے کہ ان کا مشغلہ کیا تھا؟ وہ کیا کام کرتی تھیں؟ ان کے ذمہ کیا کام تھا؟ یا وہ محنتی تھیں لیکن ملعون وسیم رضوی نے یہ باتیں من گھڑت بیان کردیں۔
جھوٹ نمبر ۳:
’’محمد نے ان پر حملہ کرنے کے لئے بہانہ نکالا کہ یہ کافر ہیں۔ ‘‘
آپ نے حنین کے پورے واقعہ کو مطالعہ کر لیا کہ حضور اقدس ﷺ نے کوئی بہانہ نہیں کیا بلکہ جب پتہ چلا کہ عوف بن مالک اسلامی لشکر پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے تو حضور ﷺ اپنے دفاع کے لئے روانہ ہوئے۔ کیا اپنا دفاع کرنا جرم ہے؟ ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ اپنا دفاع کرے۔
جھوٹ نمبر ۴:
’’محمد اور ان کے عیاش ساتھیوں کی نظر ہوازن قبیلے پر تھی۔‘‘
یہ ملعون وسیم رضوی کی طرف سے من گھڑت کہانی ہے، اپنی طرف سے جھوٹا الزام لگا رہا ہے، مؤرخ ابن اسحاق یا کسی بھی مؤرخ نے اس طرح کی کوئی بات نہیں لکھی ہے اور نہ ہی قبیلہ ہوازن کے لوگوں نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ اسلامی لشکروں کی نظر ہماری عورتوں پر ہے بلکہ قبیلہ ہوازن نے خود ہی حملہ کی تیاری کرکے پیش قدمی شروع کر دی۔ قارئین! خود فیصلہ کریں کہ ملعون وسیم رضوی جھوٹا ہے یا نہیں؟
جھوٹ نمبر ۵:
’’اس لئے رات کو ہی حملہ کر دیا۔‘‘
محترم قارئین! تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اور ابن اسحاق کے ذریعہ لکھی گئی تاریخ پڑھنے کے بعد ملعون وسیم رضوی کی عقل پر ماتم کریں گے۔ واقعہ میں صاف صاف لکھاہے کہ حنین کی تنگ وادی سے جب اسلامی لشکر گزر رہا تھا تو اچانک ہوازن قبیلے والوں نے حملہ کر دیا جس سے اسلامی لشکر منتشر ہو گیا اور شکست کے قریب ہوگئے۔ اس کے باوجود ملعون وسیم رضوی کا کہنا کہ ’’رات کو حملہ کیا‘‘کتنا بڑا جھوٹ ہے۔
جھوٹ نمبر ۶:
’’اس لئے بدو شکست کھا گئے۔‘‘
ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے مورخ ابن اسحاق کے مطابق پہلے حملہ میں بدو شکست نہیں کھا گئے بلکہ کامیاب ہوگئے، اسلامی لشکر منتشر ہوگیا اور ۴؍ سپاہی شہید بھی ہوئے اور فرار ہونے لگے بعد میں اکٹھا ہوکر حملہ کرنے کی صورت میں کامیاب ہوئے۔
جھوٹ نمبر ۷:
’’اس جنگ کے بعد ہی مسلمانوں کو جنگ میں یا کسی جگہ پکڑی گئی خواتین کے ساتھ جنسی تعلق کی اجازت مل گئی۔ ‘‘
یہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ آپ پورا واقعۂ حنین پڑھ لیجئے۔ اسی لئے میں نے پورا واقعۂ حنین نقل کر دیا ہے تاکہ ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ثابت ہو جائے۔ مورخ ابن اسحاق نے یہ بات کہیں نہیں لکھی ہے کہ کہیں بھی پکڑی گئیں خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کی اجازت مل گئی۔ ملعون وسیم رضوی اس جھوٹ کا اضافہ کرکے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کے بیج بونا چاہتا ہے ورنہ اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ جھوٹ پر مبنی ہے۔
جھوٹ نمبر ۸:
’’دوسری طرف چھ ہزار بدو تھے جس میں عورتیں بیمار اور بچے بھی تھے۔ ‘‘
یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔ مورخ ابن اسحاق نے اس کی کوئی تعداد نہیں لکھی ہے۔ ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ دیکھئے، ایک جگہ تو وہ کہتا ہے چھ ہزار بدو تھے جس میں عورتیں، بچے اور بیمار بھی تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سب کو ملا کر چھ ہزار تھے۔ دوسری جگہ لکھتا ہے چھ ہزار عورتیں پکڑی گئیں۔ اب خود فیصلہ کیجئے کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے جب چھ ہزار عورتیں پکڑی گئیں تو باقی بوڑھے بچے بیمار اور بھاگے ہوئے، مارے گئے افراد کہاں گئے؟ خود ہی کہتا ہے کہ ٹوٹل چھ ہزار تھے، پھر خود ہی کہتا ہے کہ چھ ہزار عورتیں پکڑی گئیں، وہ کیا لکھتا ہے اسے خود پتہ نہیں ہے۔ مؤرخ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ایک ہزار مردوں کو مسلمانوں نے قیدی بنا لیا جب کہ جھوٹا ملعون وسیم رضوی لکھتا ہے چھ ہزار عورتیں پکڑی گئیں۔ ملعون وسیم رضوی کو صرف عورتیں ہی نظر آتی ہیں، محنتی عورتیں، صحت مند عورتیں اور عورتوں کی ابھری ہوئی چھاتیاں نظر آتی ہیں۔ اگرچہ کسی مورخ نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
جھوٹ نمبر ۹:
’’ابن اسحاق کے مطابق اس جنگ میں مال و زر حاصل نہ ہوا۔‘‘
یہ بھی سراسر جھوٹ ہے مورخ ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ جب دستوں کی واپسی ہوئی تو ان کے ساتھ قیدی اور مال غنیمت بھی تھے لیکن ملعون وسیم رضوی مال و زر کا انکار کرتا ہے کیوں کہ اس کو تو صرف چھ ہزار عورتیں دکھانا ہے۔ پتہ نہیں وہ عورتوں کو دکھا کر کیا ثابت کرنا چاہتا ہے جب کہ مؤرخ ابن اسحاق عورتوں کا نہیں بلکہ ایک ہزار قیدی مرد کا ذکر کرتے ہیں۔
جھوٹ نمبر ۱۰:
’’محمد کے بارہ ہزار تربیت یافتہ مسلح ڈاکو تھے۔‘‘
اللہ کی لعنت ہو جھوٹے پر۔ اگر ملعون وسیم رضوی اس اسلامی لشکر کو جو اپنی دفاع میں نکلے تھے، ان کو مسلح ڈاکو کہہ رہا ہے تو ان کو کیا کہے گا جنہوں نے حنین کی وادی میں گھات لگا کر چھپ کر اسلامی لشکر پر حملہ کر دیا۔ مسلح ڈاکو تو انہیں کہنا چاہئے۔ لیکن ملعون وسیم رضوی کو چھپ کر حملہ کرنے والے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس لئے نظر نہیں آ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں جھوٹ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔
محترم قارئین سے پھر گزارش کروں گا کہ واقعہ حنین کو پھر سے پڑھیں تاکہ ملعون وسیم ر ضوی کے جھوٹ سے پردہ ہٹ جائے۔