ملعون وسیم رضوی کا محاسبہ

ملعون وسیم رضوی کا محاسبہ
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۳۳ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد کی موت کا حال‘‘ اور اس کے آگے لکھتا ہے کہ ہاتھ اُٹھا کر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن ان کے ہاتھ نیچے آگئے۔ صحیح بخاری کا جھوٹا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے،
’’عائشہ نے کہا کہ رسول کی طبیعت خراب تھی، میں پانی لے کر آئی، رسول کو پانی پلاکر اس کے چہرے پر چھڑکنے لگی، رسول اپنا ہاتھ اٹھاکر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن ان کے ہاتھ نیچے آگئے۔‘‘
اب آئیے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کا محاسبہ کرنے کے لئے اصل حدیث عربی متن میں ملاحظہ فرمائیں
صحیح بخاری جلد دوم، صفحہ ۶۹۷، کتاب المغازی حدیث نمبر ۱۵۶۷
وَكَانَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ بَيْتِي وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ قَالَ هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ ۔
ترجمہ: ’’حضرت عائشہ صدیقہ زوجہ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ جب رسول خدا ﷺ میرے گھر میں جلوہ افروز ہوئے تو آپ کے مرض میں اور اضافہ ہوگیا اور فرمایا سات مشکیزے پانی میرے اوپر بہائو، جن کے منہ کھولے نہ گئے ہوں، شاید میں لوگوں کو کوئی وصیت کر سکوں تو ہم نے آپ کو حضرت حفصہ کے ایک برتن میں بٹھا دیا اور مشکیزے سے آپ کے اوپر پانی ڈالا گیا، یہاں تک کہ آپ نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں منع فرمایا۔ ‘‘
صحیح بخاری، جلد دوم، صفحہ ۷۰۰، کتاب المغاری، حدیث نمبر ۱۵۷۱،
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَکْوَانَ مَوْلَی عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ کَانَتْ تَقُولُ إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبِيَدِهِ السِّوَاکُ وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاکَ فَقُلْتُ آخُذُهُ لَکَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَتَنَاوَلْتُهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَقُلْتُ أُلَيِّنُهُ لَکَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَلَيَّنْتُهُ فَأَمَرَّهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَکْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ يَشُکُّ عُمَرُ فِيهَا مَائٌ فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَائِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٍ ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی حَتَّی قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ۔
اس حدیث کے آخری جملے ملاحظہ فرمائیں:
’’ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی حَتَّی قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ‘‘
ترجمہ: ’’پھر آپ نے ہاتھ اوپر اُٹھایا اور کہنے لگے اعلیٰ کی رفاقت میں یہاں تک کہ آپ نے وصال فرمایا اور آپ کا دست مبارک نیچے آگیا۔‘‘
اب میں آپ کے سامنے ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ شمار کراتا ہوں،
جھوٹ نمبر ۱:
میں پانی لی کر آئی۔
جھوٹ نمبر ۲:
رسول کو پانی پلائی۔
جھوٹ نمبر ۳:
چہرے پر پانی چھڑکنے لگی۔
جھوٹ نمبر ۴:
رسول ہاتھ اُٹھا کر کچھ کہنا چاہتے تھے۔
مذکورہ بالا حدیث کو آپ بار بار پڑھیں یہ سب بکواس کہیں بھی نہیں لکھی ہے۔ اس کا جھوٹ دیکھئے اس نے لکھا ہے کہ
’’رسول ہاتھ اُٹھا کر کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن ان کے ہاتھ نیچے آگئے۔‘‘
حدیث سے ثابت ہوگیا کہ ہاتھ اُٹھا کر جو کہنا چاہتے تھے وہ کہا، وہ یہ ہے
’’فی الرفیق الاعلیٰ‘‘
اس کے باوجود وہ جھوٹا کہتا ہے جو کہنا چا رہے تھے نہیں کہہ پائے۔ یہ جھوٹ کی انتہا ہوگئی۔ مذکورہ حدیث میں اس کے چاروں جھوٹ کا پردہ چاک ہوگیا۔