جھوٹ کی بارش
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۳۳؍ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد موت سے ڈرتے تھے۔‘‘
اور صحیح بخاری کا حوالہ دیا وہ حوالہ ملاحظہ فرمائیں، وہ لکھتا ہے،
’’عائشہ نے کہا اس دن (موت کے دن) رسول کے ساتھ سونے کی باری تھی، رسول نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ میں کہاں جائوں گا؟ کہاں سوئوں گا؟ اور میرے ساتھ کون ہوگا؟ میں نے کہا اگرچہ میری باری تھی پھر بھی آپ کسی کے ساتھ سو سکتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ رسول آخرت کی بات کر رہے تھے۔‘‘
اب آپ حدیث کا عربی متن ملاحظہ فرمائیں۔
صحیح بخاری، جلد سوم، صفحہ ۱۰۳، کتاب النکاح، حدیث نمبر ۲۰۱۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَکُونُ حَيْثُ شَائَ فَکَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّی مَاتَ عِنْدَهَا ۔
ترجمہ: ہشام بن عروہ نے کہا کہ انہیں خبر دی ان کے والد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ اپنے مرض وصال میں دریافت فرماتے تھے کہ میں کل کس کے پاس رہوں گا؟ میں کل کس کے پاس رہوں گا؟ حضرت عائشہ کی باری کے باعث آپ پوچھا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ کی ازواج نے اجازت دے دی کہ آپ جس کے پاس چاہیںقیام کر سکتے ہیں، چنانچہ آپ کا وصال حضرت عائشہ کےگھر میں ہوا۔
اصل حدیث ملاحظہ کرنے کے بعد اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے۔
اب آئیے! اس کی بکواس کا محاسبہ کرتے ہیں۔
اب میں ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر ۱:
مجھے نہیں معلوم کہ میں کہا جائوں گا؟
جھوٹ نمبر ۲:
کہا سوئوں گا؟
جھوٹ نمبر ۳:
میرے ساتھ کون ہوگا؟
جھوٹ نمبر۴:
رسول کے ساتھ سونے کی باری تھی؟
جھوٹ نمبر ۵:
آپ کسی کے ساتھ سو سکتے ہیں؟
جھوٹ نمبر ۶:
مجھے معلوم نہیں تھا کہ رسول آخرت کی بات کر رہے تھے ۔
پوری حدیث کو بار بار پڑھئے، کئی بار پڑھئے، کیا یہ جملے اس حدیث میں ہیں؟ بالکل نہیں پھر ملعون وسیم رضوی نے کیسے جھوٹ لکھ دیا۔ جھوٹا آدمی جھوٹ ہی لکھے گا۔
حدیث کے الفاظ دیکھیں اللہ کے رسول نے فرمایا:
’’این انا غداً این انا غداً‘‘ اس کا مطلب کیا ہے؟ آگے کے الفاظ بتا رہے ہیں ’’یرید یوم عائشۃ‘‘ یعنی حضرت عائشہ کی باری کے سبب آپ پوچھا کرتے تھے۔ کل مجھے کہاں رہنا ہے ’’فاذن لہ ازواجہ‘‘ تو تمام ازواج مطہرات نے اجازت دے دی۔
اس سے ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ثابت ہوگیا۔
جاہل ملعون وسیم رضوی نے ’’این انا غدا‘‘ سے سمجھ لیا کہ حضور اقدس ﷺ موت سے ڈرتے تھے بلکہ اس کا مطلب ’’یرید یوم عائشۃ‘‘ ہے۔ اس حدیث میں ملعون وسیم رضوی نے چھ جھوٹی باتیں شامل کر دیں جو آپ نے اوپر ملاحظہ کیں۔ آپ خود اندازہ لگا ئیں کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا مکار اور جھوٹا ہے۔