بتوں کو کیوں توڑا؟

بتوں کو کیوں توڑا؟
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۳۰؍ پر لکھتا ہے:
’’فتح مکہ کے بعد محمد نے کعبہ میں بتوں کو کیوں توڑا؟‘‘
یہ تو میں بعد میں جواب دوں گا کہ بتوں کو کیوں توڑا۔ میں ملعون وسیم رضوی سے پوچھتا ہوں کہ سب سے پہلے عمر و بن لحی سے پوچھو کہ ملک شام سے لاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ میں ہزاروں سال کے بعد بت کیوں رکھا؟ کیا ملعون وسیم رضوی کے پاس اس کا جواب ہے؟ خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ فرمائی۔ تعمیر کعبہ کے تعلق سے ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں۔
صحیح بخاری، جلد اول، صفحہ ۵۹۱ کتاب المناسک میں ہے۔
’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتا تو کعبہ کو از سر نو تعمیر کرنے میں جو حصہ الگ کیا گیا ہے اس کو اس میں شامل کرنے کو کہتا اور اس کی کرسی زمین کے برابر کر دیتا، اس میں ایک دروازہ پور ب جانب اور ایک پچھم جانب بنواتا اور اس کی بنیاد ابراہیمی بنیادوں کے مطابق کر دیتا۔‘‘
اس حدیث سے ثابت ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔ ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں۔
صحیح بخاری جلد اول، صفحہ ۵۹۰ ،کتاب المناسک، حدیث نمبر ۱۴۸۲
’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے انہیں فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ تمہاری قوم نے جب تعمیر کعبہ کی تو بنیاد ابراہیمی سے اسے چھوٹا کردیا۔ ‘‘
قرآن بھی اس بات پر شاہد ہے کہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔ سورئہ نمبر۲، آیت نمبر ۱۲۷،
’’اور جب ابراہیم نے اس کی بنیادیں اُٹھائیں اور اسماعیل نے کہا اے ہمارے رب !تو ہم سے قبول فرما۔‘‘
قرآن و احادیث سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی، اس کے ہزاروں سال بعد قبیلہ خزاعہ کے سردار عمر و بن لحی نے ملک شام سے ایک بت لاکر خانہ کعبہ میں نصب کر دیا۔
سیرت ابن ہشام جلد اول، صفحہ ۱۰۸،
’’ابن ہشام نے کہا کہ بعض اہل علم نے محمد سے بیان کیا کہ عمر و بن لحی ملک شام گیا اور سرزمین بلقاء پہنچا، انہوں نے وہاں دیکھا کہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ عمر وبن لحی نے ان سے کہا کیا تم ان میں سے کوئی بُت مجھے نہ دو گے؟ انہوں نے ایک بُت دے دیا، جسے ہبل کہا جاتا ہے اور وہ مکہ لا کر خانہ کعبہ میں نصب کر دیا‘‘
اب میں جواب دیتا ہوں کہ حضور اقدس ﷺ نے فتح مکہ کے دن بتوں کو کیوں توڑا؟
نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ ۳۱ میں ہے کہ
’’ابو محمدعبدالملک بن ہشام النحوی نے کہا کہ یہ کتاب رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں ہے آپ کا نسب یہ ہے۔‘‘
’’(۱) محمد ﷺ (۲) بن عبداللہ (۳) بن عبدالمطلب (۴) بن ہاشم (۵) بن عبد مناف (۶) بن قصی (۷) بن کلاب (۸) بن مرہ (۹) بن کعب (۱۰) بن غالب (۱۱) بن لوی (۱۲) بن فہر (۱۳) بن مالک (۱۴) بن نضر (۱۵) بن کنانہ (۱۶) بن خزیمہ (۱۷) بن مدرکہ (۱۸) بن الیاس (۱۹) بن مضر (۲۰) بن نزار (۲۱) بن معّد (۲۲) بن عدنان (۲۳) بن اُدّ (۲۴) بن مقوم (۲۵) بن ناحور (۲۶) بن تیرح (۲۷) بن یعرب (۲۸) بن یشجب (۲۹) بن نابت (۳۰) بن اسمٰعیل (۳۱) بن ابراہیم۔‘‘
نسب نامہ سے ثابت ہوگیا کہ حضور اقدس ﷺ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد سے ہیں۔ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعمیر کردہ ہے تو خانہ کعبہ حضور اکرم ﷺ کے باپ کا بنایا ہوا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک رکھا تھا تو حضور ﷺ نے بھی اپنے باپ کے گھر کو بتوں سے پاک کر دیا۔ اس میں کون سی تعجب کی بات ہے!
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۳۰؍ پر لکھتا ہے کہ
’’سعودی عرب میں مندر یا گرجا گھر بنانے کی اجازت کیوں نہیں؟‘‘
ملعون وسیم رضوی کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہر ملک و ریاست کا الگ الگ دستور ہوتا ہے۔ کیا ملعون وسیم رضوی جواب دے گا کہ ہندوستان میں گائے کا ذبیحہ کیوں منع ہے؟ بہت سے ایسے غیر مسلم ممالک ہیں جہاں گائے کے ذبیحہ پر پابندی نہیں، کیا ملعون وسیم رضوی کے پاس اس کا جواب ہے؟