پیشاب پینے والا کون؟

پیشاب پینے والا کون؟
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۷۱ پر لکھتا ہے
’’وہ اونٹ کا پیشاب بھی پیتے ہیں، کیوں کہ محمد نے پیا۔‘‘
ملعون وسیم رضوی جھوٹی بات کرنے میں بہت ماہر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مسلمان پیشاب پیتے ہیں۔ یہ بات نہ کسی تاریخ کی کتاب میں ہے اور نہ حدیث میں اور نہ قرآن میں، نہ کسی سیرت کی کتاب میںہے اور نہ ہی اس نے کوئی حوالہ دیا۔ مسلمان تو پیشاب کو نجس اور ناپاک سمجھتا ہے۔ کپڑے پر لگ جائے تو فوراً دھوتا ہے۔ اس کو دھوئے بغیر نماز نہیں ہوتی لیکن یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں ہےکہ ایک قوم گائے کے پیشاب کو پوتر اور پاک سمجھتی ہے، اس کو پینے کی ترغیب دیتی ہے، اس کے استعمال میں ہزارہا فائدہ بتاتی ہے۔ میں نام نہیں لے رہا ہوں۔ اگر ملعون وسیم رضوی کو عقل اور سمجھ ہوگی تو وہ سمجھ جائے گا کہ میں کس کی بات کر رہا ہوں ۔ پیشاب کے بارے میں کچھ بولنے سے پہلے ملعون وسیم رضوی کو دوسرے مذہب کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے تھا۔
پیشاب کے تعلق سے منواسمرتی، ادھیائے ۱۱، شلوک ۲۱۲ میں ہے کہ
’’گئو متر، (گائے کا پیشاب) گوبر،دودھ، گھی اور پانی ان سب کو ملا کر پئے اور دوسرے دن اُپاس رکھے۔ یہ ’’سنتاپن کرچھر‘‘ کہا جاتا ہے، اور جب اوپر کہی ہوئی چیزوں کو ایک ایک دن میں ایک ایک چیز کو بھوجن کرے اور ساتویں دن اُپاس کرےیہ ’’سہاسانت پن چھر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ‘‘
اب خود ملعون وسیم رضوی بتائے کہ کس مذہب میں پیشاب پینا درست ہے
مجھے تو حیرت اس بات پر ہے کہ وہ کہتا ہے معاذ اللہ ’’محمد نے پیا۔‘‘ افسوس صد افسوس! اس کی بہتان تراشی پر کہیں سے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ معاذ اللہ حضور اقدس ﷺ نے پیشاب پیا ہو، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے بطور علاج کچھ لوگوں کے لئے کہا۔
صحیح بخاری جلد سوم، کتاب الطب صفحہ ۲۵۴، حدیث نمبر ۶۴۶،
’’قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ کچھ لوگوں کو مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اس چرواہے کے پاس چلے جائیں جو آپ نے اونٹوں کے لئے مقرر فرمایا ہے، وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں، وہ وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیتے رہے، یہاں تک کہ وہ تندرست ہوگئے۔‘‘
یہ واقعہ سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۷۸۶ پر بھی درج ہے
ملعون وسیم رضوی یہ بتائے کہ حضور اکرم ﷺ پر پیشاب پینے کا الزام جھوٹ ہے کہ نہیں؟ ہر انصاف پسند انسان کہے گا کہ یہ جھوٹ ہے۔ ملعون وسیم رضوی مرتے دم تک کوئی ایسی حدیث نہیں دکھا سکتا، اور نہ ایسی کوئی تاریخی کتاب ہی دکھا سکتا کہ جس میں حضور ﷺ کے پیشاب پینے کا ذکر ہو۔