غافل کون؟

غافل کون؟
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۵۸ پر لکھتا ہے کہ
’’اللہ کے رسول نے بنو مصطلق پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ سب غافل تھے اور اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ رسول نے ان لوگوں کو مار ڈالا اور جو بچ گئے انہیں قیدی بنا لیا۔‘‘
یہ بات بھی سراسر جھوٹ ہے۔ اب میں سیرت ابن ہشام کے حوالے سے اس واقعہ کو پیش کرتا ہوں۔
’’ سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۳۴۸؍ سے یہ واقعہ شروع ہوتا ہے اور صفحہ ۳۵۳؍ پر ختم ہوتا ہے۔ کہیں نہیں لکھا ہے کہ وہ غافل تھے، جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ حضور اقدس ﷺ جہاں قیام فرما تھے وہ ایک چشمہ تھا، جس کا نام مریسیع تھا، جو قُدید کے نواح میںساحل کی طرف واقع ہے، وہیں تصادم ہوا۔ ملعون وسیم رضوی کی مکاری دیکھئے کہ چشمہ کا نام سنتے ہی جانوروں کو پانی پلانے کا واقعہ اپنی طرف سے جوڑ دیا اور وہ لکھتا ہے کہ وہ سب غافل تھے۔ حالانکہ وہ سب غافل نہیں تھے بلکہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ اب مختصر واقعہ پیش کرتا ہوں۔
ابن ہشام نے ابن اسحاق کے حوالہ سے لکھا ہے، ابن اسحاق کہتے ہیں کہ
’’رسول خدا ﷺ کو خبر ملی کہ بنی مصطلق مسلمانوں کے مقابلے کے لئے لوگوں کو جمع کر رہے ہیں۔ ان کا قائد حارث بن ابوضرار تھا اور یہ ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا والد تھا۔ آپ ان کے مقابلے کے لئے نکلے اور ایک چشمہ بنام مریسیع پر قیام فرمایا اور بالآخر وہیں پر تصادم ہوا اور خون ریزی ہوئی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنو مصطلق کو شکست دی، ان کے کچھ آدمی مارے گئے، باقی بچے مردوں اور عورتوں کو قبضہ میں لے لیا۔‘‘
اب ملعون وسیم رضوی جواب دے کہ جنگ کی تیاری کون کر رہا تھا؟ دونوں طرف سے تصادم ہوا کہ نہیں؟؟ پھر وہ غافل کیسے تھے؟ رہا ان کے مالی اسباب پر قبضہ کرنا، لوگوں کو قید کرنا، جنگ میں جو فاتح ہوتا ہے وہی اس پر قبضہ کرتا ہے، یہی جنگ کا دستور ہے۔ اگر بنو مصطلق فاتح ہو جاتے تو کیا مسلمان لشکریوں کو پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے؟ ملعون وسیم رضوی کا مطالعہ کافی کمزور ہے۔ ماضی بعید، ماضی قریب اور زمانہ حال کی جنگوں کے حالات اس کو معلوم نہیں۔ جب دو لشکروں اور فوجوں میں جنگ ہوتی ہے تو فاتح لشکر مفتوح لشکر کو قید کر لیتا ہے۔ فاتح ملک مفتوح ملک کو اپنے تصرف میں لے لیتا ہے۔ کیا ملعون وسیم رضوی کو معلوم نہیں کہ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرکے تقریباً دو سو سال تک حکومت کی اور ہندوستانیوں پر اپنا قانون نافذ کر دیا۔