مکرو فریب

مکرو فریب
کفار قریش اور ابوجہل کے ظلم و ستم پر پردہ ڈالتے ہوئے ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۲۹؍ پر لکھتا ہے کہ
’’مسلمانوں پر ظلم کئے گئے اس کے بارے میں بہت سے جھوٹے قصے سنائے جاتے ہیں۔ سمیہ نام کی عورت کو لے کر مسلمانوں پر ظلم کا قصہ سنایا جاتا ہے۔ ابن سعد کے حوالے سے البیہقی لکھتا ہے کہ ابوجہل نے سمیہ کی اندام نہانی کو چاقو سے زخمی کیا تھا۔ اگر شہادت کا یہ واقعہ ہوتا تو محمد کی تعریف لکھنے والے ہر مصنف اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے۔ مسلمان کس طرح کے اعلیٰ مکرو فریب پیش کرتے ہیں۔‘‘
ملعون وسیم رضوی یہ کہنا چاہتا ہے کہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی یہ شہادت جھوٹی ہے ان پر ظلم نہیں ہوا تھا جب کہ ملعون وسیم رضوی ابن سعد کا حوالہ دیتا ہے کہ البیہقی نے اسے لکھا ہے۔ اب آئیے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کے لئے تاریخ کی کئی کتابوں کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی اپنی کتاب مدارج النبوت جلد دوم صفحہ ۶۳ ؍ میں لکھتے ہیں ۔
’’ابوجہل لعین نے عمار کی والدہ سمیہ کی اندام نہانی میں دشنہ مار کر شہید کر دیا پھر ان کے باپ کو بھی۔ یہ اسلام میں سب سے پہلے شہید ہیں تاریخ ابن عساکر جلد سوم میں ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نے گالیاں بکتے ہوئے حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ وہ خون میں لت پت ہوکر گر پڑیں انہوں نے اسلام کی سب سے پہلی شہید خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔‘‘
امام بن حجر عسقلانی اپنی کتاب الاصابہ فی تمییزالصحابہ میں، تذکرہ سمیہ ام عمار، میں لکھتے ہیں کہ
’’حضرت عمار کی والدہ حضرت سمیہ کو ابوجہل نے نہایت ہی وحشیانہ طریقے سے شہید کیا۔ چنانچہ تاریخ اسلام کی یہ پہلی شہادت تھی جو استقلال اور استقامت کے ساتھ راہ خدا میں واقع ہوئی۔‘‘
سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ ۳۵۲ میں ہے کہ
’’ابن اسحاق نے کہا: بنی مخزوم عمار بن یاسر ان کے باپ اور ان کی ماں کو لے کر نکلتے تھے۔ یہ سب کے سب اسلام کے گھرانے والے تھے۔ جب دوپہر کے وقت گرمی بڑھ جاتی تو ان لوگوں کو مکہ کی گرم زمین پر تکلیفیں دیتے، عمار کی ماں کو تو ان لوگوں نے مار ہی ڈالا۔‘‘
قارئین! آپ غور کریںکہ بہت سارے مورخین نے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ اس کے باوجود اس کا انکار ملعون وسیم رضوی کی جہالت اور دروغ گوئی نہیں تو اور کیا ہے۔