ظالم کون مظلوم کون؟

ظالم کون مظلوم کون؟
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۳۱؍ پر لکھتا ہے کہ
’’مکہ میں محمد یا مسلمانوں پر ظلم و ستم کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔‘‘
آگے ملعون وسیم رضوی صفحہ ۳۲؍ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد نے مظلوم ہونے کا ناٹک کیا۔‘‘
اور آگے لکھتا ہے کہ
’’مسلمانوں کے ذریعے لکھی گئی تاریخ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کا ثبوت نہیں ملتا۔‘‘
اس کے مکر و فریب اور جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے چند احادیث آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، دیکھیں کہ حضور اقدس ﷺ اور مسلمانوں پر مکہ میں کتنا ظلم و ستم ڈھایا گیاتھا۔
صحیح بخاری، جلد دوم، کتاب المناقب، صفحہ نمبر ۴۴۶، حدیث نمبر ۱۰۳۳، میں ہے۔
’’حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ خانہ کعبہ کے سائے میں چادر کی ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ان دنوں مشرکین کی جانب سے ہم پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے تھے۔‘‘
صحیح بخاری جلد دوم، کتاب المناقب، صفحہ ۴۴۶حدیث نمبر ۱۰۳۵ میں ہے کہ
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سجدے میں تھے اور قریش کے کچھ افراد آپ کے ارد گرد موجود تھے کہ عقبہ بن ابی معیط ایک اونٹ کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے آپ کی پشت مبارک پر رکھ دیا۔ آپ برابر سجدے کی حالت میں رہے یہاں تک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور اسے آپ کی پشت مبارک سے ہٹایا۔‘‘
صحیح بخاری جلد دوم، کتاب المناقب، صفحہ نمبر ۴۴۷حدیث نمبر ۱۰۳۷ میں ہے کہ
’’نبی کریم ﷺ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے آپ کی گردن میں کپڑا ڈال کر پوری طاقت کے ساتھ گلا گھونٹنا شروع کردیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور اسے پکڑ کر نبی کریم ﷺ سے دور کیا اور فرمایا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے‘‘
سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ ۳۵۰ پر ہے کہ
’’ابن اسحاق نے کہا مشرکوں نے ان صحابیوں پر جنہوں نے اسلام اختیار کیا اور رسول اللہ کی پیروی کرنے والوں پر ظلم و ستم ڈھائے اور ہر قبیلے نے اپنے قبیلے کے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ انہیں قید کرتے، مارتے، بھوکے پیاسے رکھتے، تپتی زمین پر لٹا کر تکلیفیں دیتے، بعض تو شدید مصیبتوں کو برداشت نہ کرسکے۔‘‘
آگے ابن ہشام لکھتے ہیں کہ
’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی حالت یہ تھی کہ وہ بنی جمح کے ایک شخص کے پروردہ غلام میں سے تھے، ان کا نام بلال بن رباح تھا اور والدہ کا نام حمامہ، آپ بڑے پاک دل اور اسلام کی صداقت کے پیکر تھے، جب دوپہر کی گرمی بہت تیز ہوتی تو امیہ بن خلف آپ کو لے کر نکلتا اور مکہ کے پتھریلے مقام پر چت لٹا دیتا اور کسی کو بڑی چٹان لانے کا حکم دیتا اور وہ آپ کے سینے پر رکھ دی جاتی۔ پھر وہ آپ سے کہتا کہ تو اسی حالت میںرہے گا، یہاں تک کہ مرجائے یا پھر محمد سے انکار کرکے لات و عزی کی پوجاکرے۔ بلال اس حالت میں بھی احد احد (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)کہتے رہے۔‘‘
سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ ۳۵۲؍ میں بیان ہے کہ
’’ابن اسحاق نے کہا: بنی مخزوم، عمار بن یاسر ان کے باپ اور ان کی ماں کو لے کر نکلتے تھے اور یہ سب کے سب اسلام کے گھرانے والے تھے جب دوپہر کے وقت گرمی خوب بڑھ جاتی تو ان لوگوں کو مکہ کی گرم زمین پر تکلیفیں دیتے تھے۔ مجھے خبر ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس سے گزرتے تو فرماتے اے یاسر کے گھر والو صبر کرو، تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔‘‘
اس کے علاوہ بہت ساری احادیث اور تاریخی واقعات مسلمانوں پر ظلم و ستم کے کتابوں میں موجود ہیں، بطور مثال چند پیش کئے گئے۔ تاکہ ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ثابت ہو جائے جو یہ کہتا ہے کہ مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم نہیں ہوا۔ اتنا ظلم و ستم ہونے کے باوجود جب مکہ فتح ہوا تو آقائے دوجہاں ﷺ نے سب کو معاف فرما دیا جب کہ کفار قریش اپنے انجام سے کانپ رہے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی رحم دلی کا ثبوت اس سے زیادہ اور کیا ہوگا۔