منہ ایک باتیں دو
قارئین! میں آپ کے سامنے ملعون وسیم رضوی کی دو عبارت نقل کرتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا اور دغا باز ہے اور متضاد بیان دیتا ہے یا یوں کہئے کہ جو جھوٹا ہوتا ہے اس سے متضاد باتیں صادر ہو جاتی ہیں۔
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۴۹ ؍پر لکھتا ہے کہ
’’قرآن کوئی اللہ کی کتاب نہیں ہے ایک ذہنی بیمار کے خیالات کی تخلیق ہے۔‘‘ َ
وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۱۲؍ پر لکھتا ہے:
’’قرآن مجید، اللہ کی کتاب نہیں ہے۔‘‘
پھر ملعون وسیم رضوی حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شان بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب صفحہ ۹۳؍ پر لکھتا ہے۔
’’حضرت فاطمہ (مقدس خاتون) کی پرورش محمد کی نگرانی میں ہوئی اور آپ کی پرورش اس باوقار گھر میں ہوئی جہاں اللہ کاپیغام آتا تھاـ،جہاں پر قرآن اُترا۔‘‘
ملعون وسیم رضوی کی جہالت نادانی اور حماقت پر جتنا ماتم کیجئے کم ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ قرآن آسمانی کتاب نہیں ہے، قرآن اللہ کی کتاب نہیں ہے پھر وہ عظمت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔
’’مگر فاطمہ کی شان یہ ہے ان کی پرورش اس گھر میں ہوئی جہاں قرآن کا نزول ہوتا تھا۔‘‘
اب خود بتائیے کہ اس شخص کا دماغی توازن ٹھیک ہے یا نہیں؟ خود ہی کہتا ہے قرآن اللہ کی کتاب ہے پھر خود ہی کہتا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب نہیں۔ آگے طرفہ تماشہ کے لئے اس کی دو عبارت اور دیکھ لیں اپنی کتاب کے صفحہ ۴؍ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد کو اس کے دادا اور چچا نے ضرورت سے زیادہ پیار دیا جس کی وجہ سے وہ پوری طرح بگڑ گئے۔ انہیں نہ تہذیب و شائستگی سکھائی گئی اور نہ ہی نظم و ضبط کا سبق دیا گیا‘‘
اب دوسری عبارت قارئین ملاحظہ فرمائیں وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۹۳؍ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد نے اپنی فاطمہ (مقدس خاتون) کو اس طرح تربیت دی کہ ان میں انسانیت کی تمام خصوصیات پیدا ہوگئیں‘‘
قارئین خود انصاف فرمائیں جب کوئی انسان خود بگڑا ہوا ہو۔ اس میں تہذیب و شائستگی نہ ہو اور نظم و ضبط معلوم نہ ہو تو پھر وہ کس طرح اپنی اولاد کو اعلیٰ تربیت دے سکتا ہے اور ایسی اعلیٰ تربیت کہ اس میں تمام خصوصیات پیدا ہوجائیں۔ کیا اس کا جواب ملعون وسیم رضوی کے پاس ہے مکروفریب کرنے والے کے پاس جھوٹی باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔