جھوٹا مصنف، جھوٹی کتاب، حقیقت کے آئینے میں
بدنام زمانہ ملعون وسیم رضوی نے ایک زہریلی کتاب لکھ کر جو نفرت کی آگ پھیلائی ہے ماضی قریب و بعید میں اس کی مثال نہیں ملتی یہ کتاب مجموعۃ الاکاذیب یعنی جھوٹ کی گٹھری ہے اور مصنف معلم الکاذبین یعنی جھوٹوں کا گُرو ہے۔ اس کی کتاب ’’محمد‘‘ کا مکمل مفصل، مدلل اور دندان شکن جواب زیر نظر کتاب ’’عظیم محمد‘‘ ﷺ میں موجود ہے۔ ملعون وسیم رضوی کی کتاب ’’محمد‘‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہ آدابِ تصنیف و تالیف سے بے خبر ہے۔ یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ حوالے کے تعلق سے بھی اس کو کوئی جانکاری نہیںہے۔ کتاب میں کچھ باتیں اس نے اپنی طرف سے کہیں اور کسی بات کو حوالے سے لکھا جس کتاب کا حوالہ دیا اس کا نام اور باب اور جلد نمبر بھی دے دیا۔ اس کے علاوہ کتاب کے آخر میں اس نے حوالہ جات کی ایک طویل فہرست جو ۳۵۰ ؍حوالہ جات پر مشتمل ہے، درج کی ہے جس میں کتابوں، اخباروں اور ویب سائٹوں کا نام درج ہے جب کہ پوری کتاب کے اندر صرف ۳۷؍ کتابیں، ۳؍ اخبار ،۲؍میگزین اور ۲؍ ویب سائٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اب ملعون وسیم رضوی سے سوال ہے کہ اس نے جو ۳۵۰؍ حوالہ جات لکھے ہیں وہ کتاب میں کہاں ہیں؟ اس کا جھوٹ یہیں سے ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ کتنا بڑا مکار اور فریبی ہے ۲۶؍ کتابوں اور ۵؍ رسائل و جرائد سے ۱۲۱؍ حوالے لے کر اس کو ۳۵۰؍ حوالے بتاتا ہے۔ کسی بھی زبان کا ادیب، مولف، مصنف، اس کو جھوٹا اور مکار قرار دے گا۔ وہ شاید یہ باور کرانا چاہتا اور بتانا چاہتا ہے کہ میں نے اپنی کتاب کو ساڑھے تین سو حوالوں سے لکھا ہے اور اپنے آپ کو بڑا محقق، مفکر اور اسکالر ثابت کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے مبلغ علم کا رقبہ ہاتھ کی ہتھیلی بھر بھی نہیں ہے۔ وہ اس مینڈک کی طرح ہے جو کنویں کا ایک چکر لگا کر سمجھتا ہے کہ میں نے پوری دنیا کا چکر لگا لیا ہے حقیقت پر مبنی بات یہ ہے کہ اس کی کتاب میں صرف ۳۱؍ کتابوں اور جرائد و رسائل کے حوالے موجود ہیں۔ قارئین کے سامنے ان حوالوں کی تفصیل بھی پیش کرتا ہوں تاکہ ملعون وسیم رضوی کے سفید جھوٹ کے دفتر سے پردہ اُٹھ جائے۔ اس نے اپنی پوری کتاب میں جو حوالہ دیا ہے اس کی تفصیل بھی ملاحظہ کریں۔
حوالے کا خلاصہ
قرآن سے ۷۰، صحیح بخاری سے ۱۴، صحیح مسلم سے ۴، طبقات ابن سعد سے ۲، ابو دائود سے ۲، ابن اسحاق سے ۳، البیہقی سے ۱، ابن ہشام سے ۲، کتاب الاغانی سے ۱، فتوح البلدان سے ۱، ابن خلکان سے ۱، موطا امام مالک سے ۱، طبری سے ۱، مسند احمد سے ۱، ترمذی سے ۲، تفسیر جلالین سے ۱، احیاء العلوم سے ۱، تفسیر ابن کثیر سے ۱، درمنثور سے ۱، الاستخراج سے ۱، الدرالمختار سے ۱، فتاویٰ قاضی خان سے ۱، ایسرالتفاسیر سے ۱، ستیارتھ پرکاش سے ۱، انگریزی مضمون سے ۱، تیمور لنگ کی خود نوشت سے ۱، پینگ بل ٹیرازم انڈیسک سے ۱، جرمن اخبار ویلٹ ایم سون ٹیگ سے ۱، دی ایچ آف سیکریٹ ٹیرر سے ۱، ٹائمز میگزین سے ۱، اب قارئین خود فیصلہ کریں۔ مذکورہ بالا حوالوں کے علاوہ اور کوئی حوالہ نہیں ہے تو ساڑھے تین سو حوالے کہاں سے ہوگئے۔ جب کوئی دانشور صاحب قلم اس کے حوالوں کا جائزہ لے گا تو اس کی جہالت اور حماقت پر ماتم کرے گا۔ ملعون وسیم رضوی جھوٹے حوالے درج کرکے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ میرا مطالعہ کتنا وسیع ہے۔ حقیقت تو یہ ہے اس کی حیثیت پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں ہے۔
وہ اپنی کتاب کے آغاز میں ’’اعلان‘‘ عنوان کے تحت لکھتا ہے کہ کتاب ’’محمد‘‘ میں لکھی گئی تحریر اور حوالے اور اس کی مثالیں کسی خاص مذہب یا مذہبی مبلغ کو نشانہ بنا کر تکلیف پہنچانا مقصد نہیں۔