پیش لفظ
توہینِ رسالت، فتنۂ ارتداد
اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں
اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء و رسل کا سلسلہ دراز رکھا جنہوں نے دنیا میں تشریف آوری کے بعد اپنی پاک طینت طبیعت سے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی تعلیم دے کر بھٹکی ہوئی انسانیت کو شیطانِ لعین کے مکر و فریب سے بچایا اور خدائے وحدہ لاشریک کی وحدانیت کی طرف مائل کیا، ان نفوسِ قدسیہ کی آمد کا سلسلہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ السلام سے لے کر آخری نبی، رحمۃ اللعالمین، خاتم النّبیٖن، محبوبِ ربّ العالمین، مصطفیٰ جانِ رحمت، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک جاری رہا اور پھر آپ ﷺ کی خاتمیت پر سکہ مرتب کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے اپنے مقدس کلام، قرآنِ مجید میں صاف صاف ارشاد فرمادیا کہ
ترجمہ: ’’محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں! اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔‘‘ (سورہ احزاب آیت 40)
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے بھی اپنی حدیث مبارکہ میں واضح ارشاد فرمایا کہ اَنَا خَاتَمُ النَّبیِّینَ لَانَبِیُّ بَعدِی ۔
ترجمہ: ’’میں آخری بنی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
ان واضح ارشادات کے بعد بھی دنیا میں بعض بدبخت مسلمان نما انسان ایسے بھی پیدا ہوتے رہے جن پر شیطان لعین نے اپنا تسلط قائم کیا اور وہ گمراہی کے ایسے اوندھے گڑھے میں جا پڑے کہ جھوٹے مدعیانِ نبوت کی چالوں میں آگئے اور فتنۂ ارتداد کا شکار بن گئے۔ حالانکہ قرآن کریم نے اور احادیث رسول ﷺ نے آنے والے زمانے کے ان فتنوں سے امت محمدیہ ﷺ کو قدم قدم پر آگاہی بھی دی اور چوکنّا بھی کیا مگر جن کے نصیبوں میں ہدایت نہیں وہ گمراہی و ارتداد کے گھٹا توپ اندھیروں میں بھٹک ہی پڑے۔ یہ قرآن تو پڑھتے رہے مگر قرآن ان کی حلق سے نیچے نہیں اُترا، یہ احادیث رسول ﷺ کی روشن و منور وادیوں کی سَیر تو کرتے رہے مگر اندھیروں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا، پھر کسی نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تو کسی نے ان جھوٹوں کی پیروی کی اور اپنی دنیا و آخرت کو برباد کرلیا۔ بعض ایسے بھی گزرے اور گزرتے رہیں گے جنہوں نے اللہ عزَّوَجَلّ کی شانِ اقدس میں توہین کی یا توہین کرنے والوں کی حمایت کی تو کسی نے محبوبِ خدا ﷺ کی شان و عظمت کا انکار کیا۔ جن کی سرکوبی ہر دور میں اہلِ ایمان کرتے رہے اور عظمتِ انبیاء و مرسلین کی حقانیت کو نیز قرآن و سُنّت اور اسلامی احکامات کو دنیا کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں کرتے رہے۔
اپنے نبی، پیغمبرِ اسلام، جنابِ محمد الرسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان سے کھلواڑ کرنے والوں کا تعاقب کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچانے والے ایسے مجاہدینِ اسلام کی طویل فہرست ہے جنہوں نے اپنے دلوں میں جاگزیں، اپنے نبی ﷺ کی محبت و الفت کا ایسا اظہار کیا کہ اپنی جان، اپنا مال، اپنی آل و اولاد اور اپنا گھربار سب کچھ عظمت و ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت و صیانت میں قربان کردیا اور یا تو خود سُرخرُو ہوئے یا گستاخوں کو اُن کے انجام تک پہنچایا۔ میرے پیر و مرشد، حضور تاج الشریعہ نے ایسے ہی ایمانی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے نعتیہ دیوان ’’سفینۂ بخشش‘‘ میں یوں رقم طراز ہیں،
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں اُن پر فدا کردیں
اللہ ربّ العزت نے انسانی فطرت میں جذبات و احساسات کو ودیعت فرمایا ہے، انہی جذبات و احساسات میں جوش و خروش، محبت و اُلفت اور غیرت و حمیت جیسے مثبت جذبات بھی ہیں تو نفرت و عداوت اور کینہ و حسد جیسے منفی جذبات بھی۔ انسانی سماج میں جب کبھی منفی جذبات نے سر اُبھارا اور انفرادی یا اجتماعی احساسات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ایسے مواقع پر ردّ عمل کے طور پر انتشار، بے چینی، بغاوت اور بدلے کی کیفیات کا ابھرنا فطری عمل ہے۔ جب بھی کبھی کسی انسان کے پیارے، محبوب فرد یا عزیز از جان شخصیات یا پھر مقدس مذہبی شخصیات پر توہین آمیز گفتگو یا اہانت آمیز طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے تو انہیں جاننے ماننے اور ان کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کردینے والوں پر بجلی گرنا، ان کا بے چین ہونا اور بطورِ ردعمل مختلف ضروری اقدامات پر عمل پیرا ہونا فطری تقاضہ ہے۔
قرآنِ مقدس میں اللہ عزَّوَجَلّ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: ’’اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔‘‘ (سورہ منافقون آیت 8)
مذہبِ اسلام نے تو اپنے نبی ﷺ کی محبت کو ہی ایمان کی جان قرار دیا ہے چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایمان کس چیز کا نام ہے تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان تمہارے نبی کی محبت کا نام ہے اور فطرتِ انسانی کا تقاضہ ہے کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے اس کی ذات یا صفات میں ادنی سی توہین بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ اسی لئے جب جیتندر تیاگی عرف ملعون وسیم رضوی نے اللہ کے حبیب، مسلمانوں کی جانِ ایمان، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی شانِ اقدس میں منہ بھر بھر کر توہین آمیز باتیں کتابی شکل میں شائع کی تو ہر صاحبِ ایمان کا کلیجہ چھلنی ہوتا گیا، جس نے بھی اس ملعون کی گندی، گستاخانہ عبارات پر نظر ڈالی وہ خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوا۔ ایسی ایسی توہین آمیز باتیں اس ملعون تیاگی عرف ملعون وسیم رضوی نے تحریر کی ہیں کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو سخت مجروح کرنے والی اس کتاب کا جواب دینا اس لئے بھی ضروری تھا کہ بھولے بھالے مسلمانوں کو الحاد و بے دینی سے بچایا جاسکے، تو وہیں غیر مسلموں تک اسلام و شریعت کے صاف شفاف چہرے کو پیش بھی کیا جاسکے۔
ایمان ایسی ہی متاعِ بے بہا ہے کہ جس کی حلاوت و چاشنی کو ایک مرتبہ خوش قسمت اہلِ ایمان محسوس کرلیں تو پھر اس کی بقا و دوام کی خاطر ہر منزل سے گزرنے کو ہمیشہ تیار نظر آتے ہیں، وقت اور حالات کے مطابق تغیر پذیر اقدار کے تقاضوں کے مطابق وہ اپنے نبی کی شان و عظمت کے تحفظ و بقا کو قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اسلامی حکومتوں میں قاضیِ اسلام اور بادشاہ اسلام نے توہینِ رسالت کرنے والوں پر جہاں احکامِ اسلام نافذ فرمایا تو وہیں بادشاہی نظامِ حکومت میں مسلمان بادشاہوں نے علماء امت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایسے بدبختوں کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ سمجھ میں یہ آیا کہ امارت اور سلطنت کے زیرِ سایہ اہلِ عشق و ایمان اپنی حکمت و تدبّر سے کام لیتے رہے اور شانِ اُلوہیت یا شانِ رسالت کے گستاخوں کو ان کی اوقات بتا کر اصل اسلامی تعلیمات کو اُجاگر کرتے رہے۔
موجودہ حالات میں، جمہوریت اور جمہوری نظامِ حکومت کے زیرِ سایہ مسلمانوں کو حکمت و تدبر اختیار کرنا ازحد ضروری ہے، جمہوری نظامِ حکومت نے جہاں غیروں کو آزادیِ اظہارِ رائے کے عنوان سے ڈھیل دی ہے تو وہیں اسی عنوان کے تحت اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام، مسلمان اور مقدس اسلامی شخصیات پر انگشت نمائی کرنے والوں کی پشت پناہی بھی کی ہے۔ اس نظامِ حکومت نے اہلِ ایمان و اہلِ اسلام کے ہاتھوں کو روکے رکھا ہے، یہاں اپنے مذہبی فرائض و واجبات پر مکمل طور سے عمل آوری کی اجازت تو ہے لیکن بعض معاملات میں جمہوری اقدار کو اسلامی اصولوں پر فوقیت بھی ہے۔
ایسے پُر فتن حالات میں علمائے اُمت اور زعماء ملّت پر دوہری ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں کہ وہ اسلامی احکامات کی سربلندی کی خاطر عوامِ مسلمین کی رہنمائی بھی فرمائیں اور شاتمانِ رسالت کو موجودہ حکومت و اقتدار کی عدالت میں بطورِ مجرم پیش کرکے حصولِ انصاف کے تقاضوں کو پورا بھی فرمائیں۔ یہی وجہ ہے کہ شانِ اُلوہیت یا شانِ رسالت یا مقدس مذہبی شخصیات کی شان میں توہین و گستاخی کرنے والوں کے خلاف اسلامی احکامات کے مطابق حد متعین کرنے کی بجائے اپنے ملک کے دستورِ اساسی کی بنیادوں پر مسلمان آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں. ایسی ہی کوششوں کا ایک حصہ ملعون وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی کی اہانت آمیز کتاب ’’محمد‘‘ کا تحریری جواب دینا بھی ہے۔ ملعون وسیم رضوی عرف تیاگی کی الزامی کتاب کا مدلل و مُسکِت جواب اپنی کتاب کے ذریعہ مولانا ابراہیم آسی صاحب (مہتمم جامعہ قادریہ اشرفیہ، ممبئی) نے دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ’’عظیم محمد‘‘ نام سے اس جوابی کتاب کو ترتیب دینے میں مولانا ابراہیم آسی صاحب اور ان کی ٹیم نے جس محنت اور جانفشانی سے کام کیا ہے وہ نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ قابلِ تقلید بھی۔ جانشینِ مخدومِ سمناں، صاحبِ سجادہ، معین المشائخ، حضرت سید معین میاں اشرفی الجیلانی صاحب قبلہ اور قائدِ ملّت، اسیرِ مفتیِ اعظم، الحاج محمد سعید نوری صاحب قبلہ کی ایماء پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی جانب سے ادا کئے گئے اس فرضِ کفایہ کی ادائیگی پر راقم الحروف رضوی سلیم شہزاد اور عزیز دوست ڈاکٹر رئیس احمد رضوی کی جانب پُر خلوص مبارکباد پیش ہے۔ قرآن کریم کی سورہ توبہ آیت 24 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: ’’تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان، یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔‘‘ جس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے صدر الافاضل، مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃ اپنی تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں، اس آیت سے ثابت ہوا کہ دین کے محفوظ رکھنے کے لیے دنیا کی مشقت برداشت کرنا مسلمان پر لازم ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے مقابل دنیاوی تعلقات کچھ قابلِ التفات نہیں اور خدا اور رسول کی محبت ایمان کی دلیل ہے۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی تعالٰی حضرت مولانا محمد ابراہیم آسی صاحب اور ان کی پوری ٹیم کے علماء، صاحبانِ ثروت افراد اور معاونین کی اس خدمت جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے اور ان سب کے لئے اس کام کو دارین کی سعادتوں کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
رضوی سلیم شہزاد، ایم اے، بی ایڈ