کلام تحسین
مصنف کتب کثیرہ، ماہر علوم و فنون
حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمجید خان مصباحی
خطیب و امام مدینہ مسجد، جوہو گلی، اندھیری، ممبئی
قارئین کرام و ارباب علم و دانش!
روحی فداہ حضور پر نور سیدنا محمد عربی ﷺ کی امت اجابت میں چند ماہ سے بڑی بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اکناف عالم میں جہاں سیدنا محمد عربی ﷺ کا ذکر جمیل منبر و محراب، محفل میلاد اور کتاب و خطاب سے مسلسل بلند ہو رہا ہے، وہیں چند شرپسند عناصر توہین رسالت کے شرارے بھی برسائے جا رہے ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ شورش اور باغیانہ تیور بدنام زمانہ ملعون وسیم رضوی لکھنوی کا ہے اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’محمد‘‘ رکھا اس میں اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے منصوبوں پر دل کھول کر الزام تراشی کی، طرح طرح کے بہتان و اتہام، دروغ بیانی اور دجل و فریب سے اپنی ناپاک اور گندی ذہنیت کے مطابق بھڑاس نکالی، قرآنی آیات و آحادیث سیرت و تواریخ، اور فقہائے امت کی کتب فقہ میں انتہائی بددیانتی اور خیانتیں کیں جسے ایک انصاف اور صلح پسند انسان پڑھنے کے بعد ملعون وسیم رضوی کی ہزار ہا ملامت کرے گا۔
اس سلسلہ میں انفرادی و اجتماعی، تحریکی و تنظیمی، قلمی و اشاعتی، تدریسی و تحقیقی ادارے اپنے اپنے ایمانی و روحانی دکھ درد کے ساتھ میدان میں آئے۔ اور یہ ظاہر کیا کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ پہلے اس کا علمی و تحقیقی جواب لکھا جانا چاہئے۔ تاکہ اسے سپریم کورٹ میں پیش کرکے یہ باور کرایا جائے کہ یہ کتاب ’’محمد‘‘ نہایت مفسد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ پھر اس کے بعد مزید کاروائی کی جائے اس کا جواب لکھنے کے لیے ایسے شخص کی ضرورت محسوس کی گئی جو علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم وغیرہ سے بھی تعلق رکھتا ہو اور زمانے کے حالات کا بھی عارف ہو، تصنیف و تحقیق سے بھی خاصا شغف رکھتا ہو۔ عالم دین تو بہت ہیں اللہ تعالیٰ جس سے چاہے اپنے دین کی خدمت اور سیدنا محمد عربی ﷺ کے ناموس و عظمت کی حفاظت و صیانت کا کام لے لے۔ چنانچہ اس کام کے لئے حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم آسی (استاذ جامعہ قادریہ اشرفیہ) کا نام نیک فال ثابت ہوا۔ ان کے بارے میں میری رائےیہ ہے کہ یہ ’’فطری ادیب و محقق‘‘ ہیں۔
ہر استاذ کے نہ جانے کتنے شاگرد ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر شیخ کے نہ جانے کتنے مرید ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ شاگرد اور مرید اپنی سعادت اور نیاز مندی سے اپنے استاذ اور شیخ کے نزدیک زیادہ عزیز اور محبوب ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی میرے عزیز شاگرد حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم آسی زید مجدہ کا حال ہے۔ میں اپنے تلامذہ میں ان پر فخر کرتا ہوں۔ چاندی کے عوض اہم شخصیات کے وزن کی مثالیں توبہت ملتی ہیں۔ مگر میرے پاس اگر ہیرے جواہر ہوتے تو میں انہیں اس سے تول دیتا۔
ملعون وسیم رضوی کی کتاب ’’محمد‘‘ پڑھنے کے بعد ایک عام آدمی افسوس کرتا رہ جائے گا کہ اس شخص نے قرآنی آیات بھی پیش کیں، احادیث و تواریخ، اور فقہ و سیرت کی کتابوں کی عبارتیں بحوالہ نقل کیں۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ وہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا بدنام، گمراہ وگمراہ گر آدمی ہے؟
اس دنیا میں رہنے بسنے والے سارے انسانوں سے گزارش کروں گا کہ اپنے ماتھے کی آنکھوں سے ملعون وسیم رضوی کی کتاب ’’محمد‘‘ کا جواب ’’عظیم محمد‘‘ کی ایک ایک سطر کا مطالعہ کریں تو آپ پر روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ ملعون وسیم رضوی نے جو عیاری و مکاری، جھوٹ اور فریب کا سہارا لے کر اپنے تئیں جو شیش محل تیار کیا تھا۔ علامہ آسی نے اسے دلائل کے موسل دان میں رکھ کر کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اسلام اور بانی ِاسلام پر الزامات لگانے کی پاداش میں اسے ننگا بھی کر دیا۔ اس کے ایک ایک جملے کا نہایت مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔
سرزمین ہند پر جب کسی باطل و مفسد نے قرآن، اسلام، پیغمبر اسلام اور قوانین اسلامی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کی ہے تو علمائے اہل سنت نے اپنے قلم کے ذریعہ ہمیشہ کے لئے انہیں لا جواب کرکے خاموش کر دیا ہے۔ یقیناً علامہ آسی زید مجدہ نے تاریخ کے انہیں جیالوں میں اپنا نام رقم کروالیا ہے ’’عظیم محمد‘‘ کے مطالعہ کے بعد اگر ذرہ برابر بھی ملعون وسیم رضوی کے اندر غیرت ہوگی تو وہ ندامت کے آنسوئوں میں غرق ہو جائے گا۔ اور پھر کچھ لکھنے کی تاب نہ لا سکے گا۔
اس کتاب کا میں نے بالاستعاب مطالعہ کیا۔ تخریب کار کا حق و صداقت کے جلو میں بڑی دیانتداری کے ساتھ جواب دیا گیا ہے۔ عبارت نہایت ہی شستہ اور سلیس ہے۔ لیکن مفسد سے مواخذہ کے لئے آہنی زنجیر ہے۔ قاری کے ذہن میں بات آب شیریں کی طرح اترتی چلی جاتی ہے۔ موصوف نے جماعت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔
علامہ آسی صاحب فطری ادیب و محقق، ماہر علوم و فنون، استاذ و مدرس اور باوقار مفتی ہیں۔ علم الفرائض میں تو اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ حالات حاضرہ کے نباض خطیب و مقرر (جن کے خطبات چند سالوں میں بیس ایڈیشن میں طبع ہوکر علما و طلبہ میں مقبولیت کی ثریا پر پہنچ چکے ہیں) بر صغیر کے مشہور و معروف قلم کار و مصنف، تحریکات دینی و علمی کے معتمد اور با اثر منتظم ہیں۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
فقیر غفرلہ المجید اپنی اور پوری جماعت کی طرف سے حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم آسی زید مجدہ کو کلام تحسین و آفرین کے ساتھ ڈھیروں مبارکباد پیش کرتا ہے۔ ساتھ ہی قابل مبارک باد ہیں پیر طریقت حضرت مولانا سید معین اشرف اشرفی جیلانی صاحب کچھوچھوی (صدر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء) اور قائد اہل سنت، الحاج محمد سعید نوری صاحب (بانی رضا اکیڈمی) جن کی ایما پر یہ کتاب معرض وجود میں آئی۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کے صلہ میں انہیں دارین کی نعمتیں، برکتیں، سعادتیں عطا فرمائے۔ آمین
وصلے للہ تعالیٰ علے خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
عبدالمجید خان المصباحی
۲۸؍ جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ھ / یکم فروری ۲۰۲۲ء