روح کا بیان

روح کا بیان

وَیسْئَلونَکَ عَنِ الرُّوْحِ ط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً(پارہ۱۵، رکوع۱۰)
ترجمہ: اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہیں ملا مگر تھوڑا۔
برادران اسلام یہودیوں نے دیکھ کر کہ محمد رسول عربی ﷺ امین ہیں کسی طرح کا کوئی عیب آ پ میں نہیں ہے تو انہوں نے مشورہ کیا کہ ان سے تین سوال کیے جائیں اگر تینوں کا جواب دیتے ہیں تب بھی نبی نہیں اگر دو کا جواب دیتے ہیں اور ایک کا جواب نہیں دیتے تو نبی ہیں حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سے قریش نے اصحاب کہف، اور ذوالقرنین اور روح کے بارے میں پوچھا سرور کائنات ﷺ نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بیان کیے اور روح کا معاملہ ابہام میں رکھا گیا جیسا کہ توریت میں ابہام رکھا گیا تھا قریش یہ سوال کرکے بہت نادم ہوئے۔
روح کی حقیقت کا علم اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کو ہے جیسا کہ قرآن مقدس سے ثابت ہے۔ روح فنا نہیں ہوتی ہے بلکہ باقی رہتی ہے بلکہ جسم فنا ہو جاتا ہے روح کے لیے دور اور قریب کوئی معنی نہیں رکھتا ہے انسان کے مرنے کے بعد بھی ان کی روح دیکھتی اور سنتی ے جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان کسی ایسے شخص کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جسے وہ زندگی میں جانتا تھا تو اس پر سلام کرتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فخر موجودات علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جو کوئی اپنے بھائی کی قبر پر جاتا ہے اور بیٹھتا ہے تو صاحب قبر اس سے مانوس ہوتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے جب تک کہ وہ اٹھ کر نہ جائے۔ حضور سید عالم ﷺ کے حکم سے بدر کے مقتول ایک گڈھے میں ڈال دیے گئے تھے پھر آپ اس گڈھے کے قریب کھڑے ہوئے اور ان کے نام لے لے کر فرمایا کیا تم نے اپنے رب کے دعوے کو سچا پا لیا؟ میں نے تو سچ پا لیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے رسول اللہ ﷺ کیا آپ ان سے خطاب فرما رہے تھے جن کی لاش سڑ چکی ہیں فرمایا اس کی قسم ہے جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا میری بات تم بھی ان سے زیادہ نہیں سنتے مگر یہ جواب نہیں دے سکتے۔ پتہ چلا کہ مردے بھی سنتے اور دیکھتے ہیں۔