شہد کی مکھی
وَاَوفٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَ ثُمَّ مِنَ الثَّمَرَاْتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکَ ذُلَلاً یَخْرُجُ مِنْ بُطُونِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ فِیْہِ شِفَائٌ للِنَّاسِ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (پارہ۱۴، کوع۱۵)
ترجمہ: اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور اپنے رب کی راہ میں چل کہ تیرے لیے نرم اور آسان ہیں اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگی نکلتی ہے جس میںلوگوں کی تندرستی ہے بیشک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔
برادران اسلام قرآن مقدس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ نحل میں ارشاد فرمایا کہ شہد میں شفاء ہے اس سورہ میں شہد اور شہد کی مکھی کے فضائل اور اس کے فوائد کا ذکر ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں گھر بنانے رہنے اور شہد بنانے کا مکمل طریقہ بتا دیا ہے لاکھوں کی تعداد میں مکھیاں ہیں لیکن نظم و ضبط برقرار رہتا ہے ان کا ایک بادشاہ ہوتا جسے یعسوب کہتے ہیں مکھیاں اپنے بادشاہ کے حکم سے انڈے بچے پیدا کرنے کا انجام دیتی ہیں کچھ شہد تیار کرتی ہیں کچھ موم بناتی ہیں کچھ پانی لاتی ہیں کچھ پہرہ دیتی ہیں یہ مکھیاں پھلوں اور پھولوں کا رس چوس کر لاتی ہیں اور شہد کے خزانے میں جمع کرتی رہتی ہیں تلاش میں سیکڑوں میل دور تک چلی جاتی ہیں مگر یہ اپنے چھتوں کو نہیں بھولتی مختلف رنگوں اور مختلف ذائقوں کا شہد تیار کرتی ہیں کبھی سرخ، کبھی سفید، کبھی سیاہ، کبھی زرد کبھی پتلا کبھی گاڑھا مختلف موسموں میں مختلف رنگ اور مختلف ذائقے کا شہد تیار کرتی ہیں نافرمان اور باغی مکھیوں کو یعسوب مناسب سزائیں بھی دیتا ہے کبھی کوئی شہد کی مکھی نجاست پر بیٹھ نہیں سکتی اگر بیٹھ جائے تو یعسوب اس کو سزا د یکر چھتے سے نکال دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے شہد کو عام بیماریوں کے لیے شفاء فرمایا ہ چنانچہ بعض امراض میں تنہا شہد سے شفاء حاصل ہوتی ہے اور بعض امراض میں شہد کے ساتھ دوسری دواؤں کو ملا کر بیماریوں ا علاج کرتے ہیں بہر حال مسلمانوں کو یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ شہد میں شفاء ہے اس لیے کہ قرآن مقدس میں فیہ شفائٌ للنَّاس یعنی اس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔