اَنزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاسٌ شَدِیْدٌ وَ مَنَافِعٌ للِنَّاسِ
ترجمہ: اور ہم نے لوہا اتارا اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔
برادران اسلام قرآن مقدس کی ایک ایک آیت میں ہزار حکمتیں پوشیدہ ہیں جس دور میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اس وقت لوگ اس کے فائدے سے واقف نہ تھے اس وقت لوہے سے صرف برتن اور ہتھیار بناتے تھے اس وقت منافع للناس کا مفہوم ان پر واضح نہیں ہوتا تھا لیکن آج قرآن مقدس کے نزول کے چودہ سو سال بعد بالکل واضح ہو گیا ہے کہ اس میں کتنے فوائد ہیں لوہا ایک ایسا دھات ہے کہ ابھی ہر صنعت و حرفت میں کام آتا ہے اس کے بغیر ضروریات پوری نہیں ہو سکتی آلات حرب میں لوہے کی ضرورت پڑتی ہے اس دور میں فلک بوس عمارتیں بنائی جارہی ہیں بغیر لوہے کے یہ عمارتیں تعمیر نہیں ہو سکتیں ابھی سواری کے لیے ریل گاڑی اور بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے یہ بھی لوہے سے بنتی ہیں طول و عرض سمندر میں پل بنایا جاتا ہے اس میں بھی لوہے کا استعمال ہوتا ہے مہینوں کا سفر گھٹوں میں ہوائی کے ذریعہ طے کرتے ہیں ہوائی جہاز میں بھی لوہا استعمال کیا جاتا ہے اس دور میں اگر حالات حاضرہ کی ضروریات کو دیکھا جائے اور ان ضروریات میں لوہے کا استعمال دیکھا جائے تو بے ساختہ زبان سے قرآن کے یہ الفاظ نکلتے ہیں منافع للناس یہ قرآن مقدس کا اعجاز اور کتاب الٰہی ہونے پر دال ہے کہ سائنس نے تحقیق اور جستجو کے بعد آج لوہے کے فوائد کو معلوم کیا جبکہ اس چیز کو قرآن مقدس نے چودہ سو سال پہلے ہی بیان فرما دیا ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام جنت سے دنیا میں تشریف لائے تو لوہے کے پانچ اوزار ساتھ لائے ہتھوڑا، نہائی، سنسی، ریتی، سوئی، حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ تین چیزیں زمین پر نازل ہوئیں حجر اسود، عصا موسوی اور لوہا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار برکت والی چیزیں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمائی ہیں لوہا، آگ، پانی اور نمک۔
پیارے دینی بھائیو! اللہ تعالیٰ کی ہر ایک چیز جو ہمیں عطا ہوئی ہے نعمت ہے۔