آسمان
اَفَلَمْ یَنْظُرُواْ اِلَی السَّمَائِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَہَا وَزَیَّنَّہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوجٍ(پارہ۲۶،رکوع۱)
ترجمہ: کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسا بنایا اور سنوارا اور اس میں رخنہ نہیں۔
برادران اسلام قرآن مقدس میں جگہ جگہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمان کا ذکر فرمایا ہے اور اس میں غور و فکر کی دعوت دی ہے آسمان کی بناوٹ اور سجاوٹ قدرت الٰہی پر دال ہے کہ کس طرح بغیر ستون کے قائم کیا مختصر انداز میں اس آیت کا ترجمہ نقل کر رہا ہوں جس میں آسمان کا ذکر ہے۔
سورہ لقمان میں ہے ’’اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ستونوں کے جو تم کو نظر آئیں‘‘ سورہ رعد میں ہے ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں پھر وہ اپنے تخت پر جلوہ فرما ہوا اور اس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند کیا۔‘‘
سورہ رحمن میں ہے ’’اور آسمان کو بلند کیا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے، سورہ حج میں ’’اور وہی آسمانوں کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر گر نہیں سکتا‘‘ سورہ مومنون میں ہے ’’ان سے کہو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟‘‘ سورہ جاثیہ میں ہے ’’اس نے زمین اور آسمان کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے مسخر کر دیا ہے سب کچھ اپنے پاس سے اس میں بڑی نشانیاں ہیں لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں‘‘ بڑی متبرک ذات ہے اس کی جس نے آسمان میں برج بنائے اس میں چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا‘‘ سورے نوح میں ہے ’’کیا دیکھتے نہیں یوں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا‘‘ سورہ نبا میں ’’اور ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان قائم کیے اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا‘‘ سورہ طارق میں ہے ’’قسم ہے آسمان کی اور رات کو نموار ہونے والے کی اور تم کیا جانو وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟ چمکتا ہوا تارہ‘‘ سورہ صافات میں ہے ’’تخصیص ہم نے آسمان و دنیا سے زینت دی۔‘‘
بلا شبہ بغیر ستون کے آسمان کو بنانے والی کوئی ہستی ضرور موجود ہے وہی ہستی خالق کائنات اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے۔