دوزخ

دوزخ

وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَداً(پارہ۲۹،رکوع۱۲)
ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں۔
برادران اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مقدس میں جگہ جگہ جہنم کا ذکر فرمایا ہے کہیں جہنم کے دردناک عذاب کا بیان ہے کہیں برے کاموں سے روکنے کے لیے جہنم کا ذکر ہے چند آیات کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے جس میں جہنم کا ذکر ہے۔ سورہ جن کی آیت نمبر ۱۵ میں ہے ’’اور رہے ظالم تو وہ جہنم کے ایندھن ہوںگے‘‘ سورہ انفطار میں ہے ’’اور بیشک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں‘‘ سورہ المطففین میں کافروں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے ’’ہاں ہاں بیشک وہ اس دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں پھر بیشک انہیں جہنم میں داخل ہونا ہے‘‘ سورہ تکویر میں قیامت کے دن کا ذکر کرتے ہوئے جہنم کے بارے میں یوں ہے ’’اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے اور جب جہنم بھڑکائی جائے‘‘ سورہ النازعات میں اس طرح ہے ’’اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر ہو جائیگی تو وہ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تو وہ بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے‘‘ سورہ نبا میں ہے ’’اور پہاڑ جلائے جائیںگے کہ ہو جائیںگے جیسا چمکتا رہتا دور سے پانی کا دھوکہ دیتا بیشک جہنم تاک میں ہے‘‘ سورہ تکاثر میں ہے ’’ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو ماں کی محبت نہ رکھتے بیشک ضرور جہنم کو دیکھوگے‘‘ سورہ بینہ میں ہیں ’’بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہمیشہ اس میں رہیںگے وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں‘‘ سورہ فجر میں ہے ’’اور اس دن جہنم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں‘‘ سورہ بروج میں ہے ’’بیشک جنہوں نے ایذا دی مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر توبہ توبہ نہ کی ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘
پیارے دینی بھائیو! قرآن مقدس میں اس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نافرمانی نہ کریں دوزخ پر ایمان رکھنا ضروری ہے اس کا انکار نہیں کر سکتے ورنہ اسلام سے خارج ہوجائیںگے جہنم کے دردناک عذاب کو بھی یاد رکھیں تاکہ ہمارے قدم نہ بہکیں۔