جنت

جنت

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَویٰ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَی الْمَاوٰی(پارہ۳۰، رکوع۴)
ترجمہ: اور جو اپنے ر ب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی ٹھکانہ ہے۔
برادران اسلام جنت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں جا بجا فرمایا ہے بروز محشر حساب و کتاب کے بعد نیک بندوں کا ٹھکانہ جنت ہوگا اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اپنے فضل وکرم سے عطا فرمائے گا جنت کی دیوار سونے چاندی کی ہے اس میں جنتیوں کے رہنے کے لیے خوبصورت ہیرے جواہرات سے بنائے گئے عظیم الشان محل ہوںگے جنت میں اللہ تبارک و تعالیٰ جنتیوں کو ایسی نعمت عطا فرمائے گا کہ دنیا میں اس کا تصور خواب و خیال میں بھی نہیں لایا جا سکتا ہے جنتیوں کی خدمت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں حور و غلمان ہوںگے بہشت میں نہ نیند آئے گی نہ کوئی بیماری ہوگی نہ کسی قسم کی کوئی تکلیف ہوگی بلکہ ہر طرح کا آرام ہوگا حور و غلمان کی خوبصورتی ایسی ہے کہ اگر وہ دنیا کی طرف جھانکیں تو ان کی چمک و دمک اور خوبصورتی سے دنیا کے لوگ بیہوش ہو جائیں۔
جنت اور دوزخ کے متعلق واضح ثبوت نہیں ملتے کہ یہ مقامات کہاں ہیں شرح مقاصد میں لکھا ہے کہ جنت اور دوزخ کے مقامات کے متعلق کوئی قطعی نص نہیں ہے لیکن اکثر علماء کرام کی رائے ہے کہ بہشت ساتویں آسمان پر عرش کے نیچے ہوگی اور دوزخ ساتویں زمین کے نیچے ہوگی لیکن مشکل بات یہ ہے کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے ’’جنت کا عرض آسمان و زمین کے پہنائیوں کے برابر ہوگا‘‘ جب جنت کی وسعت کا یہ عالم ہے تو اس کا زمین یا آسمان پر مکان متعین کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے مفسرین نے یوں جواب دیا ہے کہ جنت کا عرض جب زمین و آسمان کے برابر ہوگا زمین و آسمان آپس میں ملے ہوئے ہوںگے مگر ایسا نہیں چونکہ عقل انسانی کے سامنے آسمان وزمین سے کوئی بھی چیز کشادہ نہیں ہے لہذا جنت کی وسعت کا مبالغہ بیان کرنے کے لیے آسمان و زمین کی مثال دی گئی ہے جنت کا ذکر سورہ تحریم میں بھی ہے ’’جب اس نے عرض کی اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا‘‘ سورہ بینہ میں جنت کا ذکر اس طرح ہے ’’بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہی تمام مخلوق میں بہتر ہیں ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں ہیں۔