قیامت

قیامت

اِنَّ لَکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَ اَمْ لَکُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَۃٌ اِلَیٰ یَوْمِ الْقَیَامَۃِ(پارہ۲۹،رکوع۴)
ترجمہ: کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچی ہوئی۔
برادران اسلام قیامت حق ہے اس پر ایمان لانا ضروری ہے اگر کوئی قیامت پر ایمان نہ رکھے تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مقدس میں مختلف زاویے سے قیامت کا ذکر فرمایا اور قیامت کی ہولناکی سے ڈرایا ہے سورہ حاقہ میں ارشاد ربانی ہے ’’پھر جب صور پھونک دیا جائے گا ایک دم زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتاً چورا کر دیے جائیںگے وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی ہولناکی‘‘ یعنی قیامت قائم ہو جائے گی سورہ قارعہ میں ہے ’’دل دہلانے والی کیا وہ دل دہلانے والی اور تو نے جا کیا ہے دل دہلانے والی‘‘ یہاں دل دہلانے والی سے مراد قیامت ہے جس کی ہول اور دہشت اور ہیبت سے دل دہلیںگے اور قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے سورہ زلزال میں ہے ’’جب زمین تھر تھرا دی جائے گی جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دیگی‘‘ یعنی قیامت کے روز اس طرح کا منظر ہوگا کہ زمین کانپ جائے گی سورہ انشقاق میں ہے ’’ جب آسمان شق ہوگا اور اپنے رب کا حکم سنے‘‘ مذکورہ بالا آیات کے علاوہ بھی بہت سی آیات میں قیامت کا تذکرہ ہے۔
سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھا لیا جائے گا جہالت زیادہ ہوگی زناکاری اور شرا ب خوری کی کثرت ہوگی مردوں کی تعداد کم ہوگی عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی یہاں تک کہ ایک مرد کی سرپرستی میں پچاس عورتیں ہوںگی سید نا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دجال بائیں آنکھ کا کانا ہوگا بہت کثرت سے بال ہوںگے اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی اس کی جہنم میں جنت ہوگی اور اس کی جنت میں جہنم ہوگی۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اسی وقت آئے گی جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کرنے والا نہیں رہ جائے گا۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں قیامت کے احوال کو فراموش نہیں کرنا چاہیے تاکہ اللہ و رسول ﷺ کی نافرمانی نہ ہو۔