یاجوج ماجوج

یاجوج ماجوج

قَالُوا یٰذَ الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاجُوْججَ وَ مَاجُوْجَ مُفِسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَہَلْ نَجْعَلْ لَّکَ خَرَجًا عَلیٰ اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا و بَیْنَہُمْ سَدَّا (پارہ۱۶، رکوع۲)
ترجمہ: اپنوں نے کہا اے ذو القرنین بیشک یاجوج ماجوج زمین پر فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم ان کے لیے کچھ مال مقرر کر دیں اس پر کہ آپ ہم میں اور ان میں ایک دیوار بنا دیں۔
برادران اسلام یاجوج ماجوج کا تذکرہ آیت مذکورہ میں ہے یہ ایک فسادی گروہ ہے اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ افث بن نوح علیہ السلام کی اولاد سے فسادی گروہ ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زمین میں فساد کرتے تھے ربیع کے زمانہ میں نکلتے تھے تو کھیتیاں کھاجاتے تھے کچھ نہ چھوڑتے تھے اور سوکھی چیزیں لاد کر لے جاتے تھے درندوں وحشی جانوروں اور سانپوں یہاں تک کہ انسانوں تک کو کھا جاتے تھے لوگوں نے حضرت ذوالقرنین سے اس کی شکایت کی آپ نے بنیاد کھدوائی جب پانی تک پہنچی تو اس میں پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کے درمیان میں لکڑی اور کوئلہ بھروادیا گیا اور اس میں آگ لگا دی گئی یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا حدیث شریف میں میں ہے کہ یاجو ج ماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر محنت کرتے ہیں جب توڑنے کے قریب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں چلو باقی کل توڑیںگے دوسرے دن دیوار درست ہو جاتی ہے جب ان کے نکلنے کا وقت ہوگا ان میں سے بعض کہیںگے چلو باقی انشاء اللہ کل توڑیںگے انشاء اللہ کی برکت سے دیوار ٹوٹ جائے گی اور زمین پر فساد برپا کریںگے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعاء سے وہ ہلاک ہو جائیںگے حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا یاجوج ماجوج ایک قوم ہے جس کے چار سو امیر ہیں ان میں سے کوئی فرد اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنی اولاد میں سے ایک ہزار شہسوار کو نہیں دیکھ لیتا ان میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو صنوبر کے درخت کی طرح لمبے ہوتے ہیں دوسری وہ ہیں جو اپنے ایک کان کو جوڑھ لیتے ہیں اور دوسرے کان کو بچھا لیتے ہیں ان کا ایک قدم خراسان میں تو دوسرا شام میں ہوگا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان میں سے ایک قسم کی لمبائی بالشت برابر اور دوسرے کی لمبائی ضرورت سے زیادہ کبوتروں کی سی آواز نکالتے ہیں چوپایوں کی طرح جفتی کرتے ہیں بھیڑیے کی طرح چیختے ہیں ان کے بال سردی گرمی سے بچاؤ کرتے ہیں معراج کی رات حضور ﷺ کا گزر ان پر سے ہوا آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت لیکن انہوں نے قبول نہیں کی۔