شیاطین
اِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُّوَّا (پارہ۲۲، رکوع۱۳)
ترجمہ: بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو۔
برادران اسلام اس آیت مقدسہ میں ارشاد ربانی ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اور تم بھی اسے دشمن سمجھو شیطان کو دشمن سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ شیطانی کاموں سے دور رہا جائے شیطان کی اتباع نہ کی جائے اطاعت الٰہی میں کاہلی نہ ہو یہی شیطان سے دشمنی ہے قرآن مقدس میں جابجا اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو شیطان کے مکر و فریب سے آگاہ فرمایا ہے سورہ اعراف میں ہے ’’اے نبی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دے‘‘ سورہ النساء میں ارشاد ربانی ہے ’’اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا‘‘ سورہ مائدہ میں ہے ’’شیطا ن چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہوگے۔‘‘ سورہ بقرہ میں ہے وہ تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے دوسری جگہ سورہ النساء میں فرمان الٰہی میں ہے ’’شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ ‘‘
برادران اسلام شیطان کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انسان کے ساتھ شیطان کی دشمنی سے انکار کی گنجائش ہے شیطان انسان کو دنیا و آخرت دونوں جگہ نقصان دینا چاہتا ہے حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ سونے جاؤ تو پہلے چراغ کو بجھا دو کیونکہ شیطان اس طرح کے حیوانوں کو ایسی چیزوں کی طرف مائل کرتا ہے اور تمہارے مکانوں میں آگ لگا دیتا ہے۔ حضور سید عالم ﷺ نے ابن صائد سے کہا تمہیں کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا سمندر کی سطح پر ایک تخت نظر آتا ہے جس کے ارد گرد بہت سارے سانپ ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابن صائد نے صحیح کہا ہے وہ ابلیس کا تخت ہے سورہ فاطر میں فرمان الٰہی ہے ’’وہ اپنے پیروکاروں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں۔
پیارے دینی بھائیو! بلا شبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے تو ہمیں بھی شیطان سے کھلی دشمنی کرنی چاہیے اور ہم اطاعت الٰہی اتباع سنت اور احکام شریعت کی بجا آوری سے ہی شیطان کی دشمنی نبھا سکتے ہیں۔